آفتاب اقبال کی صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کے معاملے پر وضاحت اور معذرت

آفتاب اقبال کی صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کے معاملے پر وضاحت آ گئی

معروف پاکستانی اینکر پرسن، دانشور اور تجزیہ کار آفتاب اقبال نے گزشتہ روز اپنے پروگرام میں ایک فقرہ ایسا کہہ دیا جو کہ صحابہ کرامؓ کے شایان شان نہ تھا۔ اس معاملے پر اب انہوں نے رجوع کرتے ہوئے نہ صرف وضاحت پیش کیا بلکہ غیر مشروط معافی بھی مانگی۔

تفصیلات کے مطابق آفتاب اقبال نے اپنے معروف مزاحیہ پروگرام خبردار کے دوران ایک اسکٹ پیش کیا جس میں اندھے لوگ ملکر کسی دوسرے کا موبائل ڈھونڈ رہے تھے۔ اس سین کے دوران آفتاب اقبال نے کہا کہ یہ اخلاقی گراوٹ کی نشانی ہے کہ سب لوگ ملکر ایک ہی چیز کو ڈھونڈنے لگ گئے ہیں اور اپنے اصل مدعے کو بھول گئے ہیں۔

انہوں نے بات کے دوران یہ بھی کہ کہ”یہی انہوں نے غزوہ احد میں بھی کیا کہ سب مال غنیمت لوٹنے لگے اور اپنے مقام سے پیچھے ہٹ گئے جس کے بعد بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا”۔

اس معاملے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور سوشل میڈیا صارفین نے نہ صرف آفتاب اقبال کو بُرا بھلا کہا بلکہ ان کا بائیکاٹ کرنے اور انہیں براہ راست صحابہ کرامؓ کی گستاخی کا مرتکب بھی قرار دیا۔

آج اس معاملے پر ان کا ردعمل سامنے آیا جس میں آفتاب اقبال نے کہا کہ وہ معاملے پر غیر مشروط معافی مانگتے ہیں کیونکہ جس طرح یہ بات یہاں انہوں نے کہی وہ دوبارہ سننے پر انہیں بھی غلط لگا اور وہ اس پر نا صرف معافی کے طلبگار ہیں بلکہ نادم ہیں۔

اپنی بات پر وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پروگرام کی ایڈیٹنگ کے دوران کچھ چیزوں کو غیر ضروری سمجھ کر نکال دیتے ہیں مگر اس حصے کا پروگرام میں سیاق و سباق سے ہٹ کر اس میں رہ جانا ایک سنگین غلطی ہے جس پر وہ شرمندہ ہیں۔

آفتاب اقبال نے کہا کہ اگر وہ یہ ایڈیٹنگ کا کام خود کر رہے ہوتے تو شاید وہ اس کو بہتر طریقے سے اور زیادہ واضح کر سکتے تھے، انہوں نے کہا کہ وہ اس پر اظہار افسوس بھی کرتے ہیں اور شرمندہ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسان جتنا بھی دانا بننے کی کوشش کرے مگر وہ غلطی کا مرتکب ہو ہی جاتا ہے۔

  • He said "دیکھیے اخلاقی گراوٹ کہ عالم کے اس کہ فون گرا ہے اور اپنے سارے دکھ بھول کے صرف مالے غنیمت سا میٹ رہا ہے .
    یہی کچھ انھوں نے کیا تھا جنگ احد کے موقے پر ”

    Yani yay log Sahaba hain ? The only reason he apologized because the video had gone live around the world and he could see himself getting killed. Imagine what kind of language these people use about Sahaba when there is no camera.

    • I can not imagine and there is no need to imagine negative things. He apologised so that is it. Problem here is with your destructive imagination. you still have time to change it to something creative.

    • پیارے بھائی یہ حدیث پڑھیں اور اپنا دل صاف کریں۔ ایک شخص نے معافی مانگ لی ہے اب اس کا عمل اس ذات باری تعالی کے سپرد ہے جو دلوں کے حال بھی جانتا اور نیت بھی۔ ہم دل کا حال اور نیت نہیں جانتے لہذا ہم ظاہری اسباب پر فیصلہ کریں گے۔ ہم ایک مسلمان سے حسن ظن رکھتے ہیں کہ اس سے غلطی ہوئی ہے اور یہ معاملہ اللہ رب العزت کے سپرد کرتے ہیں جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سے ہم زیادہ محبت کرتا ہے۔ ہمیں ان معاملات میں جذبات سے زیادہ عقل سے کام لینا چاہیے پیارے بھائی۔

      سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا۔ ہم صبح کو حرقات سے لڑے جو جہنیہ میں سے ہے۔ پھر میں نے ایک شخص کو پایا، اس نے لا الٰہ الا اللہ کہا میں نے برچھی سے اس کو مار دیا۔ اس کے بعد میرے دل میں وہم ہوا (کہ لا الٰہ الا اللہ کہنے پر مارنا درست نہ تھا) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اس نے لا الٰہ الا اللہ کہا تھا اور تو نے اس کو مار ڈالا؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس نے ہتھیار سے ڈر کرکہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا تاکہ تجھے معلوم ہوتا کہ اس کے دل نے یہ کلمہ کہا تھا یا نہیں؟ (مطلب یہ ہے کہ دل کا حال تجھے کہاں سے معلوم ہوا؟) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کہ کاش میں اسی دن مسلمان ہوا ہوتا (تو اسلام لانے کے بعد ایسے گناہ میں مبتلا نہ ہوتا کیونکہ اسلام لانے سے کفر کے اگلے گناہ معاف ہو
      جاتےہیں
      صحیح مسلم

  • He just repeated a fact that we all have read in every book and Islamic history. Where is any tauheen in this? Some fkn idiots with no education keep looking for an opportunity to show their strength just by imposing some kind of blasphemy of any one, and they have made this law start looking bad, because I can say this about any one and every Pakistani will start cursing him/her or some one will be prepared to kill him to because a Mujahid.

  • منافق مسلمان، جن کا ایمان میراثیوں کے ایک پروگرام سے لڑکھڑا گیا۔ اس قوم کے باقی کرتوت کیا آنحضور کی تعلیمات کے عین مطابق ہیں؟ جھوٹی، منافع خور، ٹھگ اور حرام خور قوم، جس کے جج، جرنیل، سیاستدان ، کاروباری اور سرکاری افسر نیچے سے اوپر تک حرام میں ڈوبے ہوں، مگر ہر مسلک کی اپنی مسجد سے ۵ وقت اذانیں پوری آب و تاب سے آتی ہوں اور مشجدیں فل ہوں، ایسی قوم کو آفتاب اقبال سے نہیں ان کی اپنی کرتوں سے خطرہ ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >