تحریک لبیک کے مطالبات کیا ہیں اور حکومت نے ٹی ایل پی سے کیا معاہدہ کر رکھا ہے؟

 

ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں ایک بار پھر مذہبی جماعت کے کارکنان کی جانب سے احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں جس کی وجہ تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد حسین رضوی کی گرفتاری ہے۔

حکومت نے سعد حسین رضوی کو تحریک لبیک کی جانب سے حکومت کو دی گئی 20 اپریل کی ڈیڈ لائن کے قریب آنے سے قبل گرفتار کرکے صورتحال کو اپنے قابو میں کرنے کی ایک کوشش کے طور پر استعمال کیا ہے۔

یہ ڈیڈ لائن تحریک لبیک نے حکومت کو کیوں دی تھی اور ان کے مطالبات کیا ہیں، یہ ہم تفصیل سے آپ کو بتاتے ہیں۔

گزشتہ برس اکتوبر میں فرانس کی ایک یونیورسٹی کی کلاس میں حضور اکرمﷺ کا گستاخانہ خاکہ بنانے والے تاریخ کے استاد کو ایک طالب علم نے قتل کردیا جس کے بعد فرانس میں مسلانوں اور حکومت کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

اس واقعے کو ہوا تب ملی جب فرانس کےصدر ایمانوئل میکرون نے مسلمانوں پر شدید تنقید کی اور گستاخانہ خاکوں کو نہ روکنے کی ترغیب دی، اس کے بعد دنیا بھر کے مسلمان ممالک کے سربراہان بشمول عمران خان کی جانب سے فرانسیسی صدر کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

تحریک لبیک پاکستان حکومت سے چاہتی کیا ہے؟

فرانس میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی کارروائیوں اور فرانسیسی صدر کے بیان کے بعد پاکستان بھر میں مذہبی جماعتوں نے بھی احتجاج ریکارڈ کروایا جس میں تحریک لبیک پاکستان بھی شامل تھی۔

7نومبر 2020 کو تحریک لبیک پاکستان نے فرانسیسی حکومت کے خلاف کراچی میں ایک بڑی ریلی نکالی اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فرانس کے ساتھ تمام تر سفارتی تعلقات معطل کرے۔

تحریک لبیک کی اس ریلی کی قیادت علامہ خادم حسین رضوی (مرحوم) کررہے تھے جنہوں نے حکومت سے عملی قدم اٹھاتے ہوئےسخت فیصلے لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے فرانس کے خلاف جہاد کا اعلان کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

12 نومبر کو تحریک لبیک پاکستان نے 15 نومبر کو راولپنڈی کے لیاقت باغ سے فیض آباداسلام آباد تک "تحفظ ناموس رسالت مارچ” کا اعلان کیا جس کے بعد اسلام آباد انتظامیہ اور ٹی ایل پی رہنماؤں کے درمیان مزاکرات کا آغاز ہوا۔ اسلام آباد انتظامیہ نے تحریک لبیک کی قیادت کو کورونا کی بدترین صورتحال کے باعث ریلی کو منسوخ کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔

تحریک لبیک پاکستان حکومت سے چاہتی کیا ہے؟

چودہ نومبر2020 کو راولپنڈی میں تحریک لبیک نے ریلی کا انعقاد کیا۔ اس ریلی کے پیش نظر راولپنڈی سے سے اسلام آباد جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا اور تحریک لبیک کی لیڈرشپ اور کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن بھی کیا گیا۔ پولیس نے 181 ارکان کو گرفتار کیا اور 65 افراد کو عدالت پیش کر کے اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا۔

15نومبر 2020 کو ٹی ایل پی کارکنان اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ لیاقت باغ راولپنڈی اور فیض آباد انٹرچینج پر پولیس اور ٹی ایل پی کارکنان کے درمیان تصادم میں دونوں اطراف سے کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا۔

16 نومبر کو ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہوئے اور حکومت نے مظاہرین کے مطالبات تسلیم کر لیے۔ اس وقت کے وزیر داخلہ اعجاز شاہ ، وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے حکومت کی طرف سے معاہدے پر دستخط کیے۔ جس کے مطابق حکومت فرانسیسی سفیر کا معاملہ پارلیمنٹ لے جائے گی اور تین ماہ کے اندر اندر فرانسیسی سفیر کو نکال دیا جائے گا اور پاکستان بھی فرانس میں اپنا سفیر تعینات نہیں کرے گا اور ٹی ایل پی کے گرفتار تمام کارکنان کو رہا کردیا جائے گا۔

تحریک لبیک پاکستان حکومت سے چاہتی کیا ہے؟

3 جنوری کو خادم رضوی کی وفات کے بعد تحریک لبیک کے نوجوان سربراہ سعد رضوی نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو اپنا وعدہ یاد نہیں ہے تو ہم اسے آپ کو یاد کرائیں گے۔ سعد رضوی نے حکومت کو فیصلہ کرنے کیلئے 17فروری تک کا وقت دیا۔

تحریک لبیک کے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے اعلان پر 11 فروری کو حکومت نے ایک بار پھر ٹی ایل پی کی قیادت سے ایک اور معاہدہ کیا کہ 20اپریل تک حکومت فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکال دے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس ٹی ایل پی کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت ناموس رسالتﷺ کے مسئلے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

تحریک لبیک پاکستان حکومت سے چاہتی کیا ہے؟

اپریل کے مہنیے کا آغاز ہوتے ہی تحریک لبیک نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ 12 مارچ کو حکومت نے ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو حراست میں لے لیا۔ جس کے بعد ٹی ایل پی کارکنان نے ملک بھر کی شاہراہوں پر دھرنے دے دیے۔

ملک اس وقت تقریباً جام ہو چکا ہے۔ لاکھوں مسافر ٹریفک جام کی وجہ سے راستوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لاہور ، کراچی، راولپنڈی اسلام آباد، کراچی سمیت ملک کے تمام بڑے شہر اور بڑی شاہرائیں اس وقت ٹی ایل پی کارکنان کے قبضے میں ہیں۔

تحریک لبیک پاکستان حکومت سے چاہتی کیا ہے؟

مختلف شہروں میں ٹریفک جام کی وجہ سے ایمبولینسز کو بھی راستہ نہیں مل پارہا۔ لاہور میں ہسپتالوں میں آکسیجن کی سپلائی بھی متاثر ہے۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے مظاہرین سے درخواست کی ہے کہ وہ آکسیجن لے جانے والی گاڑیوں کو رستہ دیں تاکہ ہسپتالوں میں موجود مریضوں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔

  • نبی کی حرمت پر ساری نسلیں قربان لیکن راستے روکنے اور معصوم لوگوں پر تشدد کرنے والوں
    کو سختی سے روکنا ہو گا یہ اسلام کی بدنامی کا سبب بننے والی بات ہو گی

  • ان راستے روکنے والوں میں سے اگر کسی کو فرانس کا ویزا اتا کیا جائے تو یہ ٣ بجے لائن میں لگے ہوں گے
    سب سے زیادہ اس قوم میں لوگ ان ملکوں میں جاتے ہیں

  • ماشاللہ دیکھیں یہ ہوتے ہیں عاشقان رسول ہاتھوں میں ڈنڈے اور اپنے ہی راستے روک کے پتھر مار رہے ہیں استغفراللہ.

    • یہ حکومت سے مذاکرات کر رہا تھا اور ساتھ مریم سے
      اور جعلی مولنا ڈیزل سے پیسے لے رہا تھا
      کالیں ای بی نے ریکارڈ کر کے اس بیوقوف کو ٹانگ لیا

  • khud ko asal deene islam ko quraan se theek tarah se samajhne ke qaabil karo. yahee quraan ka bunyaadi taqaaza hai tamaam insaanu se. is ke baghair duniya main deene islam ka qayaam mohaal hai. agar ye nahin karte to jhoote daawe mat karo khudaa rasool se mohabbat ke. deene islam to khudaa ki maanane ki baat hai aur us ke mutaaboq us ka nizaam qaim kerne ki. jo is maqsad ke liye kaam nahin ker rahaa woh deene islam ke liye qatan kaam nahin ker rahaa. is liye keh deene islam ke liye kaam kerna us ko theek tarah se samjhna aur aur per theek tarah se kaam kerna hai.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >