شوگر بزنس میں پیسہ بنانے کاگورکھ دھندا،جہانگیر ترین بھی شریف خاندان کے نقش قدم پر

کیا جہانگیر ترین نے بھی شوگر بزنس میں پیسہ بنانے کیلئےشریف خاندان کاطریقہ اپنایا؟

سینئر رہنما تحریک انصاف جہانگیر خان ترین کی شوگر ملز اور شریف خاندان کی شوگر ملز کے کاروبار اور ان کے طریقہ واردات میں ہوبہو مماثلت نظر آتی ہے۔

نجی ٹی وی پروگرام پاور پلے کے اینکر پرسن ارشد شریف نے اس حوالے سے اپنے پروگرام میں خصوصی رپورٹ پیش کی جس میں بتا یا گیا ہے کہ کیسے جہانگیر ترین اور شریف خاندان ایک ہی طریقہ واردات سے شوگر ملز کے کاروبار میں پیسہ بناتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے مطابق رمضان شوگر ملز کیس اور جہانگیر ترین کی شوگر ملز کیس میں مماثلت پائی جاتی ہے اور یہ مماثلت صرف چینی کے سٹہ گروپس تک محدود نہیں بلکہ تمام شوگر ملز کی طرح شریف خاندان اور جہانگیر ترین کی شوگر ملزچینی کی سٹہ بازی میں ملوث بھی ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق دونوں کےطریقہ واردات میں ایک مماثلت کیش بوائز کی بھی ہے، شہباز شریف خاندان کے بہت سے کیش بوائز تھے جو بینکوں میں پیسہ جمع کرواتے اور نکلوا کر دوسرے اکاؤنٹس میں منتقل کرتے تھے، شہباز شریف خاندان کے اہم کیش بوائے مسرور کی طرح جہانگیر خان ترین کا بھی ایک بااعتماد کیش بوائے ہے جس کا نام عامر وارث ہے۔

دونوں کے کیسز میں دوسری مماثلت جعلی اکاؤنٹس کی ہے جس کا ذکر آصف علی زرداری کے خلاف جے آئی ٹی کی رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے، سندھ میں فالودے والے کا اکاؤنٹ، رمضان شوگر مل کیس میں پاپڑ والے کا بھی اکاؤنٹ سامنے آیا ایسے ہی جہانگیر ترین کیس میں بھی اب تک ایک جعلی اکاؤنٹ سامنے آچکا ہے۔

شریف خاندان اور جہانگیر ترین کے کیسز میں ایک مماثلت اوپن مارکیٹ سے ڈالر خرید کر باہر بھجوانے کی بھی ہے، ایف آئی اے کے مطابق شریف خاندان نے اپنے کالے دھن کو استعمال کرتے ہوئے ڈالر خرید کر باہر بھیجے جسے بعد میں لندن میں جائیدادیں خریدنے میں استعمال کیا گیا ۔

رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ 2011، 2012 میں جہانگیر ترین اور ان کے خاندان نے اوپن مارکیٹ سے ڈالر خریدے ، لاہور کی اوپن مارکیٹ سے ڈالر خریدنے کی قیمت 35 ہزار ڈالر سے کم رکھی گئی تاکہ کسی تحقیقاتی ادارے کو خبر نہ ہوسکے، اس کے علاوہ 2016 میں علی ترین کی جانب سے 7اعشاریہ 4 ملین ڈالر برطانیہ بھیجے گئے جس سے وہاں جائیداد خریدی گئی۔

رپورٹ کے مطابق حدیبیہ پیپر ملز کیس اور جہانگیر ترین کی فاروقی ملز کیس میں ایک اور مماثلت بھی سامنے آئی ہے، ایف آئی اے کے مطابق حدیبیہ پیپر ملز ایک فرنٹ کمپنی تھی جسے منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیا جاتا تھا اس میں جعلی اکاؤنٹس سے سرمایہ کاری کی گئی اور اس کالے دھن کو سفید کرتے ہوئے اسے ذاتی استعمال میں لایا گیا۔

بالکل اسی طرح جہانگیر خان کے خلاف فاروقی ملز کی تحقیقات بھی ایف آئی اے نے شروع کردی ہیں کہ کس طرح شیئر ہولڈرز کا 3 ارب روپیہ ایک بند کمپنی میں انویسٹ کیا گیا جو رقم کبھی ریکور بھی نہ کروائی جاسکی، فاروقی ملز کو قرضہ دلوانے کیلئے جے ڈی ڈبلیو کی جانب سے گارنٹی بھی دی گئی ۔

ارشد شریف نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ دونوں کا طریقہ واردات بھی ایک سا ہے اور تحقیقات شروع ہونے پر جیسے شریف خاندان نے نیب اور تحقیقاتی اداروں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جہانگیر ترین نے بھی حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے اراکین اسمبلی پر مشتمل ایک پریشر گروپ قائم کرنے کا آغاز کردیا ہے۔

  • ویسے اس رپورٹ کے مطابق تو کچھ بھی غلط نہیں۔۔۔۔ اوپن مارکیٹ سے پیسے لیکے باہر بینکننگ چینل سے باہر بھیجنا کہا سے جرم ہے؟

  • لگتا ہے کہ ارشد شریف پرائم منسٹر کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان سے مل کر آۓ ہے۔
    شاہ محمود قریشی اور اسد عمر بھی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >