شہریوں اور کاروباری حضرات پر رمضان المبارک میں نئی پابندیاں اور ایس او پیز

وفاقی وزیر اور سربراہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر اسد عمر کی زیر صدرات این سی او سی کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں ملک بھر میں آج سے کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔

جاری اعلامیے کے مطابق کورونا کے بڑھتے کیسز اور رمضان المبارک میں مذہبی و ثقافتی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے۔ ان فیصلوں کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

این سی او سی اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کورونا کے خطرے کو مدنظر رکھ کر سخت ایس او پیز کے ساتھ وسیع لاک ڈاؤن لگایا جائے گا، لاک ڈاؤن کےدوران ایمرجنسی کےعلاوہ غیر ضروری نقل وحرکت پر پابندی ہوگی۔

فیصلہ کیا گیا ہے کہ وفاق کی اکائیاں اضلاع اورشہروں میں بیماری کا پھیلاؤ دیکھ کر اقدامات لے سکتی ہیں، وفاق کی اکائیوں میں ضلعی انتظامیہ چاہے تو ایس او پیز کے حوالے سے مزید سخت اقدامات بھی کرسکتی ہیں البتہ مارکیٹیں صبح سحری سے شام 6 بجے تک کھلی رہیں گی جبکہ ملک بھر میں ہفتہ، اتوار کو کاروبار بند رہے گا۔

این سی او سی نے کہا ہے ہر قسم کی سماجی اور ثقافتی تقریبات پر مکمل پابندی ہوگی، ان ڈور اور آؤٹ ڈور تقریبات پر پابندی ہوگی، سینما، مزارات اور پبلک پارکس مکمل طور پر بند رہیں گے۔ افطار سے رات 12 بجے تک ہوٹلوں کے باہر کھانے کی اجازت ہو گی، جبکہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ ہفتے میں دو دن بند رہےگی۔

ملک بھر میں تمام نجی و سرکاری بینکوں کے اوقات کار پیر سے جمعرات صبح 10سے4 بجےتک ہوں گے جب کہ جمعے کو بینک صبح 10سے دوپہر ایک بجے تک کھلے رہیں گے۔ اس کے علاوہ تمام نجی اور سرکاری دفاترمیں 50فیصد ورک فرام ہوم پالیسی ہوگی۔

اجلاس میں کہا گیا کہ اندرون شہر ٹرانسپورٹ 50 فیصد مسافروں کے ساتھ چلے گی جبکہ ریلوے کو 70 فیصد مسافروں کے ساتھ چلایا جائےگا، بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر25 اور26 اپریل کی درمیانی شب تک پابندی رہےگی۔ جب کہ ایس او پیز پر جائزہ اجلاس 10 رمضان جب کہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کا جائزہ 20 اپریل کو لیا جائے ہوگا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>