رائیونڈ رہائش گاہ کی زمین فراڈ سے حاصل کی گئی، دستاویزات منظرعام پر

شریف خاندان کے راوئیونڈ میں موجود محل کی زمین کے حوالے سے مزید تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں جن کے مطابق یہ زمین شریف خاندان کے فراڈ سے حاصل کی تھی۔

خبررساں ادارے کی خصوصی رپورٹ کے مطابق زمین کو فراڈ سے حاصل کرنے سے متعلق تمام تر دستاویزات سامنے آگئی ہیں جس کے مطابق 1989 میں جب میاں نواز شریف وزیراعلی پنجاب تھے اس رائیونڈ میں اس مقام پر 600 کنال جگہ بورڈ آف ریونیو کی جانب سے کسی وحیدہ خاتون کے نام کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق 1989 میں جیسے ہی اس زمین کا انتقال وحیدہ خاتون کے نام ہوا تو بورڈ آف ریونیو نے اس کا کیس دائر کردیا، 1992-1993 میں شریف خاندان نے وحیدہ خاتون سے اس رقبے کا 200 کنال حصہ خریدی ۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق تحصیل رائیونڈ کے موضع مانک میں خسرہ نمبر1902 رقبے کو کوڑیوں کے بھاؤ شریف خاندان نے وحیدہ خاتون سے حاصل کیا اور اس پر شریف خاندان کا فارم ہاؤس تعمیر ہوا۔

رواں ماہ 2 روز قبل بورڈ آف ریونیو نے اس انتقال کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ انتقال وحیدہ نامی خاتون کے نام پر نہیں ہوا تھا یہ انتقال جعلی تھا 600 کنال جگہ بورڈ آف ریونیو کی ملکیت ہے جسے اس دور میں شریف خاندان نے وحیدہ خاتون سے خریدا تھا۔

شریف خاندان کی رہائش گاہ کے 175 کنال اراضی پر بورڈ آف ریونیو دعویدار ہے جبکہ 25 کنال اراضی کا معاملہ نیب میں زیر تحقیق ہے۔

واضح رہے کہ بورڈ آف ریونیو کی جانب سے شریف خاندان کی رہائش گاہ کی اراضی سے متعلق اے سی رائیونڈ کو خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس جگہ کو واگزار کروایا جائے، تاہم شریف خاندان کی جانب سے اس اقدام پر عدالتوں سے رجوع کیا گیا اور مقامی عدالت نے زمین واگزار کروانے کے معاملے پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے فریقین سے اگلی سماعت پر ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

    • نہ صرف شریف خاندان بلکہ ان کے پیروکاروں کا دفاع صرف یہی ہے کہ ہاں ہم نے چوری کی ڈاکے ڈالے ہیں لیکن ہمیں پکڑو تو باقی چوروں کو بھی پکڑو۔ اگر دو سو چور ہیں تو پہلے ۱۹۹ کو پکڑ کر انہیں سزا دو اور جب یہ سلسلہ انجام پذیر ہو جائے تو پھر ہمیں پکڑنے کی کوشش کرو۔ جہاں تک شریف خاندان کا موقف ہے تو ان کا یہ کہنا بنتا ہے آخر چور اپنی بچت کے لئے تو ہر سہارا ڈھونڈتا ہی ہے اور پھر ان کی سیاسی ساکھ کا بھی مسئلہ ہے۔ لیکن اصل مسئلہ وہ عوام ہیں جو یہی بات دہراتے ہیں حالانکہ انہیں تو کہنا چاہئے کہ سب سے پہلے چور حکمران کو سزا دو اور اس کے باقی دوسروں کو۔ عمران خان سے نفرت میں یہ لوگ ملک، مورل اور دین تک قربان کرنے کو تیار ہے بشرط شریفوں کی کرپشن سے صرفِ نظر کیا جائے اور انہیں پھر سے ملک کی بربادی کا ٹھیکہ دے دیا جائے۔

  • اس خاندان کو واپس انڈیا جاتی امراء کیوں نہ بیھج دیا جائے کیوں یہ خاندان اس ملک میں ڈاکے ڈالنے آیا تھا غریب عوام کی زمینوں پر قبضے کر کے اپنے محلات تعمیر کرنے والے اس خاندان کو ملک بدر کر دیا جائے یا تو لندن بیھج دیا جائے یا اپنے پردادا کے گھر انڈیا بیھج دیا جائے جہاں کلبوشن یادیو کا خاندان اور شریف خاندان مل کر جاتی امراء میں رہ سکے اور پاکستان کی عوام کی جان اس کرپٹ خاندان سے چھوٹ جائے

  • سب کو پتہ ہےیہ چور ہے لیکن کچھ ہوتا نہیں اسٹیبلیشمینٹ بھی ملی ہوتی ہے انکو کوئی عام آدمی حکومت کے لئے نہیں ملتا پھر انھی چوروں کو لا کر بٹھا دیتے ہے اب شہباز کو تیار کررہے ہے اسکے سارے کیس سے جان چھٹ رہی ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >