سپریم کورٹ میں کورونا کے شکار وکیل کی پیشی پر کھلبلی

سپریم کورٹ میں کورونا کے شکار وکیل کی پیشی پر کھلبلی

سپریم کورٹ میں کورونا پازیٹو وکیل نے پیش ہو کر ہلچل مچادی، مریض چیف جسٹس گلزار احمد کی عدالت میں پیش ہوا، چیف جسٹس گلزار احمد نے وکیل خالد محمود سے استفسار کیا کہ آپ کی التواء کی درخواست آئی تھی؟

وکیل خالد محمود نے جواب دیا کہ مجھے کورونا ہوا ہے، پھر بھی آگیا ہوں۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو اس طرح عدالت نہیں آنا چاہئے تھا،عدالت کے حکم پر وکیل باہر چلا گیا۔

جس کے بعد چیف جسٹس نے عدالتی عملے سے استفسارکیا کہ فائل کون اٹھا کرلایا جس پرعملے نے کہا کہ فائل اٹھانے والا بارکا ملازم ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملازم کومعلوم ہے وکیل کوکورونا ہوا ہے پھرفائل نہیں اٹھانا چاہیے۔

وکیل کے جانے کے بعد عدالتی روسٹرم اور فائلوں پر اسپرے کیا گیا۔

ملک میں کورونا کے وار تیزی سے جاری ہیں, ایک روز ایک سو دس افراد وائرس کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے، مزید پانچ ہزار تین سو چھالیس افراد میں وائرس کی تصدیق ہوگئی,گزشتہ چوبیس گھٹنے میں چونسٹھ ہزار چارسو اکیاسی کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >