کیا جہانگیر ترین کو انصاف دلوانے کیلئے ہم خیال ارکان اسمبلیوں سے استعفیٰ دینگے؟

کیا جہانگیر ترین کو انصاف دلوانے کیلئے پی ٹی آئی رہنما استعفیٰ دینگے؟

جہانگیر ترین کا معاملہ کس کروٹ بیٹھے گا سب کو اس کا انتظار ہے، لیکن اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رہنما جہانگیر ترین کے کیمپ میں موجود بعض اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے اسمبلیوں سے استعفی دینے کی تجویز پیش کردی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس کے دوران پیش کی گئی تجویز پر قانون سازوں کی اکثریت نے انکار کردیا،جبکہ بعض ارکان پارلیمنٹ استعفے دینے کے حق میں تھے،کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اگر وزیر اعظم خان نے جہانگیر ترین کے خلاف ہونے والی نا انصافیوں کو ختم کرنے کے لیے اراکین اسمبلیز کو وضاحت کا موقع نہیں دیا تو اس کے بعد استعفے پر غور کیا جائے۔

جہانگیرترین کے ساتھ چالیس پارٹی پارلیمنٹیرینز بینکاری جرائم کے مقدمہ کی سماعت پر خصوصی عدالت میں گئے اور ان کے ساتھ ان کی رہائش گاہ واپس آئے، رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ نے وزیر اعظم سے ملاقات کو یقینی اور اپنے مؤقف کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا جہاں وہ وضاحت کرسکیں کہ جہانگیر ترین کو غیر منتخب لوگوں کے کہنے پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔

پی ٹی آئی کے 31 ایم این اے اور ایم پی اے نے اجلاس کے لیے وزیر اعظم کو ارسال کردہ درخواست پر دستخط کردیے اور اب وہ جواب کے منتظر ہیں،جہانگیر ترین نے 22 اپریل کو سیشن کورٹ میں پارٹی کے اراکین کے لیے اگلی پیشی پر افطار ڈنر دینگے۔

وزیر اعظم خان نے سرگودھا میں میڈیا سے گفتگو میں پارٹی ایم این اے اور ایم پی اے کی شکایات سننے کے لیے رضامندی کا اظہار کیااور کہا کہ لیکن ہر قیمت پر قانون کی بالا دستی کو برقرار رکھا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ چینی کی قیمت میں فی کلو 26 روپے اضافہ کیا گیا اور قوم کا 1130 ارب روپے لوٹ لیا گیا جبکہ لوگوں کے مفادات کا تحفظ حکومت کا کام ہے،حکومت نے ایف آئی اے کے توسط سے ایک انکوائری کی جس میں انکشاف ہوا کہ شوگر ملز کا ایک کارٹیل عوام سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور ٹیکسوں سے بچ رہا ہے۔

دوسری جانب شبلی فراز نے کہا ترین گروپ سے کوئی خطرہ نہیں،وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین اپنا مقدمہ عدالتوں میں لڑیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >