پاکستان میں شوگر سمیت مختلف امراض میں تشویشناک حد تک اضافہ:عالمی ادارہ صحت

 

2030 تک پاکستان کا شمار ان ٹاپ5 ممالک میں ہو گا جہاں سب سے زیادہ ذیابیطس کے مریض پائے جائیں گے

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس وقت پاکستان میں 70 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کا شکار ہیں۔ تحقیق کے مطابق، 2030 تک پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ ذیابیطس آبادی رکھنے والے پہلے 5 ممالک میں شامل ہوجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق ڈبلیو ایچ او کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں صحت کی صورتحال تشویشناک ہے اور 190 ممالک کی فہرست میں پاکستان اب 122ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ یہاں 60 ملین سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بیشتر عوام معاشی ناہمواریوں اور محدود مالی مسائل کی وجہ سے اپنی بنیادی صحت کی ضروریات کو پورا نہیں کرسکتے، اکثریت اپنی بیماری کے علاج کے طریقہ کار سے بھی لاعلم ہیں۔ دوسری جانب موجود دستیاب صحت کی سہولیات غریب عوام کیلیے کافی نہیں۔ جبکہ دنیا بھر میں صحت کی سہولیات بہتر ہو رہی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال 40ہزار سے زائد خواتین چھاتی کے کینسر کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتی ہیں۔ پاکستان میں ہر سال فالج کے لگ بھگ 3لاکھ 50ہزار واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ کچی آبادیوں میں رہنے والوں کی اکثریت ملیریا کا شکار ہے۔

جب کہ ٹی بی (تپ دق) پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کرتی ہے۔ ڈینگی بخار کا مرض پاکستان میں 2010 سے شروع ہوا، اس نے دیہی علاقوں میں بسنے والے ہزاروں افراد کی جانیں لے لیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کے تقریباً ایک لاکھ مثبت کیسز موجود ہیں۔ اس بیماری کی سب سے بڑی وجہ منشیات کے عادی افراد ہیں جو متاثرہ سرنجوں کا استعمال ہے۔

سندھ میں 50ہزار سے زیادہ مریضوں کے ساتھ ایچ آئی وی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔علاج کی کمی کی وجہ سے سانس کا انفیکشن پاکستان کے بچوں میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ پاکستان کی تقریبا 77 فیصد آبادی دمہ کا شکار ہے اور آنے والے سالوں میں اس میں فیصد اضافے کی توقع ہے۔

تقریباً 60 ملین افراد ذہنی عارضے میں مبتلا ہیں اور پاکستان میں کل 20 فیصد آبادی ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے اور یہ پاکستان میں صحت کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستانی شہریوں میں ذہنی تناؤ میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کا حل صرف بہتر علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >