نیب نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے اثاثوں کی تفصیلات عدالت میں جمع کرا دیں

لاہور ہائی کورٹ میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔ جس میں نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ تین دن بعد فیصلہ تبدیل کردیا گیا کیا یہ عدالت کے خلاف نہیں؟

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہباز شریف کے بے نامی داروں کو متعدد نوٹسز جاری کیے اور ہم نے پوچھا کہ بتائیں کہ اثاثے کہاں سے آئے؟ حمزہ شہباز کے علاوہ کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ 1990 میں ان کے اثاثے 25 لاکھ روپے تھے اور 1998 میں 4 کروڑ روپے سے بھی بڑھ گئے۔

نیب کی جانب سے جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق شہباز شریف وزیر اعلی پنجاب بنتے ہیں اور 1998 میں ان کے یہ اثاثے 21 لاکھ سے 1 کروڑ 48 لاکھ تک پہنچ جاتے ہیں جبکہ 2018 میں ان کے اثاثوں کی مالیت 7 ارب 32 کروڑ تک پہنچ جاتی ہے۔

نیب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہم نے وراثت میں ملنے والے اثاثوں کو ریفرنس میں شامل نہیں کیا 2005 کے بعد کے اثاثوں کو شامل کیا ہے جب پہلی بار ٹی ٹیز ان کے اکاؤنٹ میں آئیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ پراپرٹی نصرت شہباز کے نام پر لی گئی ایل ڈی اے جوڈیشل کالونی میں حمزہ شہباز کی پراپرٹی کی مالیت 136 ملین ہے اور اسلام آباد میں 2 ویلاز بھی تہمینہ درانی کے نام پر ہیں۔

نیب کے مطابق چنیوٹ میں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے نام پر391 کنال زمین ہے جبکہ نصرت شہباز کے نام پر 299 ملین کے اثاثے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ حمزہ شہباز پر 533 ملین روپے کی منتقلی کا الزام ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ جب ٹی ٹیز آنا شروع ہوئیں اس وقت سلمان شہباز کی عمر کیا تھی؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سلمان شہباز کی اس وقت عمر 23 سال تھی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>