پشاور ہائیکورٹ نے ذخیرہ اندوزوں، منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کر دی

پشاور ہائیکورٹ نے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اشیاء خوردنوش کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ہائیکورٹ میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

وفاقی سیکرٹری خوراک، صوبائی مشیر خوراک, ڈپٹی کمشنر، ایڈوکیٹ جنرل اور اے اے جی سید سکندر حیات شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔

اشیاء خوردنوش کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں، مہنگائی کی وجہ سے عوام مشکلات میں ہیں، رمضان میں عوام کو جو مشکلات ہیں اس کو محسوس کریں۔

عدالت نے مزید کہا کہ گوشت کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اس کے لئے کیا اقدامات کررہے ہیں جس پر سیکرٹری خوراک نے جواب دیا کہ پولٹری اور گوشت کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ان سے کہا کہ پیداوار میں کمی ہوئی ہے تو آپ برآمدات کو کم کردیں تاکہ ملکی ضروریات پوری ہوں۔ سیکرٹری خوراک نے کہا کہ ایکسپورٹ کو ہم کم نہیں کرسکتے ورنہ ہمارے لئے مسائل ہونگے۔

عدالت نے مزید کہا کہ عوام کی تکالیف کا کچھ مداوا کریں، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کریں ہم ہدایات جاری کریں گے کہ رمضان میں گرفتار گراں فروشوں کی ضمانت بھی نہ ہو۔ مہنگائی کی وجہ سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

عدالت نے وفاقی اور صوبائی عہدے داران کو مہنگائی کم کرنے کے لئے حکمت عملی وضع کرنے کا حکم دیتے ہوئے مثبت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>