وزیرخزانہ شوکت ترین کا آئی ایم ایف پروگرام پر نظر ثانی کا عندیہ

وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہاہےکہ معیشت کا پہیہ چل نہیں رہا، آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ ناانصافی کی۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس کی صدارت فیض اللہ کموکا میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین بھی شریک ہوئے۔

اجلاس کے دوران شوکت ترین نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ ناانصافی کی، بجلی ٹیرف میں اضافے کا آئی ایم ایف کا مطالبہ نا جائز ہے، معیشت کا پہیہ چل نہیں رہا، ٹیرف بڑھانے سے کرپشن بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے ٹیکسز کی بجائے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ضرورت ہے، ہمارے ملک میں شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم معاشی پالیسی نہیں جبکہ چین، ترکی اور بھارت نے معاشی پالیسیوں میں تسلسل رکھا۔

شوکت ترین کا کہنا تھاکہ زراعت، صنعت، پرائس کنٹرول، ہاؤسنگ سیکٹر میں بہتری کی ضرورت ہے، صرف 0.25 فیصد ہاؤسنگ مارگیج ہے، ہاؤسنگ سیکٹر کی بحالی سے 20 دوسری صنعتوں کا پہیہ چلے گا، تمام صوبوں کے محاصل کا 85 فیصد 9 بڑے شہروں پر خرچ ہوتا ہے۔

وزیرخزانہ کا کہنا تھاکہ حکومت جن اداروں کو نہیں چلا سکتی ان کی نجکاری کر دی جائے گی، صحت اور تعلیم کیلئے بہت کم خرچ کیا جاتا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >