کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنیوالے 4 مجرموں کی پھانسی عمرقیدمیں تبدیل

سندھ ہائی کورٹ نے کم عمر بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے 4 مجرمان کی پھانسی کی سزا ختم کردی ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کےجسٹس کے کے آغا اور جسٹس عبدالمبین لاکھو پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے زیادتی کے بعد بچی کو قتل کرنے والے مجرمان کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔

سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتےہوئے مجرمان کی جانب سے سزا کو کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پھانسی کی سزا کو ٹیکنیکل بنیاد پر عمر قید میں تبدیل کردیا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ مجرمان کے خلاف ثبوت موجود ہیں، جرم ثابت ہوچکے ہیں لہذا حیدر شاہ، عارف شاہ، الطاف حسین اور شاہد محمود کی سزا کالعدم قرار نہیں دی جاسکتی، تاہم سزا کو ٹیکنیکل بنیادوں پر عمر قید میں تبدیل کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ 2018 میں کراچی کے علاقے سچل گوٹھ تھانے میں ان چاروں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا تھا کہ انہوں نے 8 سالہ کائنات کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا ۔

مقدمہ ٹرائل کورٹ میں چلا2019 کو عدالت نے جرم ثابت ہونے کے بعد چاروں مجرمان کو موت کی سزا سنادی تھی۔

  • کچھ عرصے بعد یہ بھی ختم ہو جائے گی
    اور یہ درندے پھر شکار پر نکلیں گے
    کاش اگلا شکار جج اور وکیل کی اولاد ہو

  • Saboot mojod hay, jurm sabi ho chuka hay .. But, still Sindh high court k ye dallay apni baaji or betion ka mujra dikhanay k liyay in criminals to technical grounds par relief day rahay hain. or kuch arsay life-imprisonment will convert to 3 years, and then waived off completely. Well done haraamioo.

  • I guess the victim family should not file complaint against this verdict. Instead, they should privately hire someone to get these guys killed, and get their own justice.

    And maybe they should cut off di*ks of these criminals and parcel them to these judges, so that they may suck on it.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >