کوئٹہ : گاڑی نہ روکنے پر پولیس فائرنگ سے نوجوان جاں بحق

کوئٹہ میں گزشتہ شب پولیس اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق، دوسرا زخمی ہو گیا، پولیس نے مقدمہ درج کر کے اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق سریاب روڈ پر گزشتہ شب پولیس کی مبینہ فائرنگ سے نوجوان فیضان جتک جاں بحق جبکہ اسکا ساتھی شہزاد زخمی ہوگیا۔

پولیس کے مطابق سریاب روڈ پر ایگل اسکواڈ کے اہلکاروں نے ایک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا، نہ رکنے پر مبینہ طور پر فائرنگ کر دی۔

واقعہ کی اطلاع ملنے پر مقتول کے ورثاء بڑی تعداد میں ہسپتال پہنچے اور پولیس کے خلاف احتجاج کیا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ فیضان نے گاڑی نہیں روکی تھی۔

فیضان جنک کیلئے سوشل میڈیا پر بھی آوازیں اٹھیں، سوشل میڈیا صارفین نے فیضان جنک کے قتل کو سفاکیت قرار دیتے ہوئے انصاف اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

جبکہ دوسری جانب بلوچ علیحدگی پسند اور بھارت نواز تنظیمیں فیضان جنک کے قتل کا ذمہ دار پاک فوج اور ریاست پاکستان کو ٹھہرانے لگے اور زہریلا پروپیگنڈا کرنے لگے۔

وزیراعلی بلوچستان نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انکوائری رپورٹ کی روشنی میں فوری کارروائی کی جائے گی۔

صوبائی وزیرداخلہ میرضیاء اللہ لانگو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے فوری رپورٹ طلب کرلی۔

میرضیاء للہ لانگو نے نوجوان کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لواحقین سے ناانصافی نہیں ہوگی، ایس ایس پی کی سربراہی میں واقعے کی شفاف تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور فائرنگ کرنے والے اہلکار کو حراست میں لے لیا ہے۔

  • عمران نیازی کی حکومت اسی چیز پر تو کھڑی ہے فرقہ واریت اور علیحدگی پسند تحریکوں کو ہوا دینا دعا ہے ایسے منحوس حکمران کو ﷲ پاک عبرت بنا دے

  • قانون بنانے والے اور پولیس کو ایسا اختیار دینے والے بتائیں گے کہ آج تک پولیس نے اس طرح مشکوک لوگوں کی گاڑیوں پر فائیرنگ کر کے کتنے اصل مجرموں کو مارا
    جب بھی مارا گیا بے گناہ ہی مارا گیا اصل مجرم رک کر مک مکا کرکے باعزت طریقے سے چلا جاتا ہے
    ہر کیس میں بے گناہ ہی مارا جاتا ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >