سپریم کورٹ: ماں نے بچے حاصل کرنے کیلئے 10 تولے سونا چھوڑ دیا

عدالت سے بچوں کی حوالگی کی خاطر ماں نے 10 تولے سونا چھوڑ دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں والدین کی علیحدگی کے بعد بچوں کی حوالگی کے کیس کی سماعت کے دوران ماں نے 2 بچے لینے کی خاطر 10 تولے سونا چھوڑ دیا۔

سپریم کورٹ جج جسٹس مشیر عالم کی سر براہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

بچوں کی والدہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ والدہ 2 بچوں کے لیے 10 تولے سونا قربان کرنے کو تیار ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے دورانِ سماعت استفسار کیا کہ 10 تولہ سونے کا مقدمہ کسی بھی عدالتی فورم پر ثابت نہیں ہو سکا، ہائی کورٹ کے 10 تولے سونا جہیز میں دینے کے فیصلے کی بنیاد کیا ہے؟ اگر والدہ کو 10 تولہ سونے کے عوض دونوں بچے مل جائیں تو کیا یہ ٹھیک ہو گا؟

سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف والد زین اللّٰہ کی اپیل منظور کر لی اور والدین کی رضامندی سے فیصلہ سنادیا۔

عدالت نے والد کے پاس موجود بچے ماں کے حوالے کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔

واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے والد کو بچوں کی ماں کے جہیز کا 10 تولہ سونا ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر بچوں کے والد زین اللّٰہ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >