برطانوی نژاد پاکستانی لڑکی کے قتل سے متعلق اہم انکشاف سامنے آگئے

برطانوی شہریت کی حامل مائرہ کے ڈیفنس میں ہونے والے قتل میں مزید حقائق سامنے آگئے

لاہور کے علاقے ڈیفنس میں برطانوی نژاد پاکستانی لڑکی مائرہ کے قتل پر ابتدائی تحقیقات کے بعد مزید حقائق سامنے آئے ہیں کہ مقتولہ مائرہ نے اپنی جان کو خطرہ ہونے سے متعلق پولیس کو درخواست دی تھی جس پر پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔

یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزم ظاہر جدون نے مائرہ کے قتل سے 3 روز قبل رینٹ اے کار سے کرائے پر کار لی جو کہ اسلام آباد گئی وہاں پہنچ کر گاڑی کا ٹریکر بند کیا گیا۔ کرائے پر لی گئی اس گاڑی کے لیے مقتولہ مائرہ کی دوست اقرا ہمدانی نے ضمانت دی تھی۔

ادھر رینٹ اے کار کے مالک نے پولیس کو گاڑی کی گمشدگی پر کارروائی کیلئے درخواست دی ہے جس پر پولیس کی جانب سے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ظاہر جدون نے منصوبہ بندی کے تحت گاڑی رینٹ پر حاصل کی، حکام کے مطابق اس گاڑی کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی نے ایس ایس پی آپریشنز سیف اللہ کو مقتولہ مائرہ کی پولیس کو دی گئی درخواست اور اس پر کارروائی یا مقدمے کا اندارج نہ ہونے سے متعلق تحقیقات کی ہدایت کر دی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہےکہ انکوائری رپورٹ کےمطابق ذمہ داران کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یاد رہے ڈیفنس کے علاقہ میں برطانوی نژاد پاکستانی لڑکی مائرہ ذوالفقارنے قتل سے قبل سعد امیر کے خلاف 20 اپریل کو تھانہ ڈیفنس بی میں درخواست دی تھی۔ مائرہ نے درخواست میں جان کو لاحق خطرے کا ذکر کیا تھا۔

مقتولہ کی جانب سے دی گئی درخواست کے مطابق سعد امیر نے کئی بار مجھے زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی، 20 اپریل کو سعد امیر مجھے اسلحہ کے زور پر گاڑی میں گلبرگ لے گیا، میں نے وہاں سے بھاگ کر زیادتی کی کوشش ناکام بنائی۔

مائرہ نے اپنی درخواست میں بتایا کہ اس کی جانب سے شور مچانے پر ملزم سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا ہوا موقع سے فرار ہو گیا، مقتولہ مائرہ ذوالفقار نے اپنی جان کو لاحق خطرات کے حوالے سے پولیس کو آگاہ کیا تھا اور قتل سے 2 ہفتے قبل پولیس سے اپنی جان کا تحفظ مانگا تھا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >