شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ، تحریری حکم متعلقہ اداروں کو ارسال

شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ، تحریری حکم متعلقہ اداروں کو ارسال

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالے جانے کا تحریری حکمنامہ متعلقہ اداروں کو بھجوادیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے لاہور ہائیکورٹ کے مصدقہ تحریری حکمنامہ کی کاپی وفاقی سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی امیگریشن کو بھی بھجوا دی گئی ہے۔

شہباز شریف کی لیگل ٹیم کی موجودگی میں لاہور ہائیکورٹ کا تحریری حکم بھجوایا گیا ہے اور عدالت کا تحریری حکم ہائیکورٹ کی ڈسپیچ برانچ کےذریعے متعلقہ اداروں کوبھجوایاگیا۔

شہبازشریف کے وکلا نے عدالتی حکم میسنجر کے ذریعے وزارت داخلہ کو بھجوانے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار نے کہا کہ تحریری حکم میں نہیں لکھا کہ حکم میسنجر سے بھجوایا جائے۔

واضح رہےکہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو 8 ہفتوں کے لیے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی تاہم آج لاہور ائیرپورٹ پر انہیں بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ مارچ 2020 میں برطانیہ سے آخری پرواز کے ذریعے بیمار ماں کو چھوڑ کر واپس آیا، وفاقی حکومت کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

 فاضل جج نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل ہے یا نہیں، جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ ابھی مجھے کنفرم نہیں ہوسکا۔

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ جب ملزم کی ضمانت ہوچکی ہے، ٹرائل میں پیش ہو رہا ہے، ملزم اپوزیشن لیڈر اور تین بار وزیر اعلیٰ پنجاب رہے ہیں، کونسی گارنٹی چاہیے آپ لوگوں کو وہ بتایں۔ سرکاری وکیل نے اپوزیشن لیڈر کی درخواست پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ لیگی رہنما منی لانڈرنگ کے مرکزی ملزم ہیں، باہر جانے سے عدالتی کارروائی متاثر ہوگی۔

سرکاری وکیل نے عدالت سے درخواست ضمانت پر عید کے بعد سماعت کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری ادارے اپنا اپنا ریکارڈ لے آئیں گے، جمعہ تھا جس کے باعث سٹاف جا چکا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >