شہباز شریف کی لندن روانگی کا معاملہ،لیگی و حکومتی ارکان کے ایک دوسرے پر حملے

صدر مسلم لیگ ن شہباز کی لندن جانے کی خواہش پوری نہ ہوسکی، ایف آئی اے نے رکاوٹیں کھڑی کردیں، گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کو آٹھ مئی سے تین جولائی تک بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی،عدالت  کی جانب سے شہباز شریف کو آٹھ ہفتوں کیلئے لندن جانے کی اجازت علاج کی غرض سے دی گئی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ نے چھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل نہیں ، نام بلیک لسٹ میں شامل ہے تو بھی علاج کیلئے برطانیہ جانے سے نہیں روکا جائے گا،شہباز شریف کوعلاج کیلئے ایک بار آٹھ مئی سے تین جولائی تک برطانیہ جانے کی اجازت دی جارہی ہے،درخواست پر فریقین کو پانچ جولائی کے لیے نوٹس بھی جاری کر دیئے گئے تھے۔

لیکن آج جب صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف ایئرپورٹ پہنچے تو لاہور ایئرپورٹ پرایف آئی اے امیگریشن اہلکاروں نے بیرون ملک جانے سے روک دیا،امیگریشن اہلکاروں کو بتایا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر ہے اور ون ٹائم ٹریول کی اجازت دی گئی ہے،جس پرامیگریشن حکام کاکہنا تھا سسٹم پر کلیئرنس اپ ڈیٹ ہونے تک شہباز شریف ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔

ایف آئی اے امیگریشن حکام کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے شہباز شریف کا نام تاحال بلیک لسٹ سے نہیں نکالا گیا لہٰذا نام کلئیر ہونے پر جہاز میں سوار ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ شہباز شریف کو آج صبح 4 بج کر 50 منٹ پر غیر ملکی ایئرلائن کے ذریعے لاہور سے دوحہ روانہ ہونا تھا جہاں قطر میں 10دن قرنطینہ کے بعد ان کی لندن روانگی تھی۔

ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے اس عمل کوچیلنج کرنےکا اعلان کیا اور کہا کہ حکام نے عدالتی حکم کی توہین کی ہے،ان کے خلاف توہین عدالت کا کیس دائرکریں گے۔

لیگی رہنما عطا تاڑرکاکہنا تھا کہ شہبازشریف کو روکنا عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہے،باہمی مشاورت کی ہے،ہم قانونی چارا جو ئی کریں گے، کیونکہ جب عدالت عالیہ اجازت دے رہی ہے تو میں نہیں سمجھتا ایف آئی اے یا وزیرداخلہ میں اتنا دم ہے یا قانونی جواز ہے کہ شہباز شریف صاحب کو روک سکیں، کورٹ آرڈر میں لکھا ہے کہ شہباز شریف نے نیک نیتی سے کام لیا وہ باہر گئے اور واپس آئے،آپ پورے پاکستان کو پیغام دے رہے کہ عدالت کے احکامات نہ مانیں جائیں، قانون کیخلاف ورزی آپ کے مشیران کرتے ہیں۔

شہباز شریف کے اس اقدام پر پی ٹی آئی رہنماؤں نے طنز کے نشتر برسادیئے،وزیراطلاعات فواد چوہدری کہتے ہیں کہ بلیک لسٹ میں نام ڈالنا یا نکالنا ڈی جی ایف آئی اے کا اختیارہے، شہباز شریف کے وکلا کی طرف سے بلیک لسٹ سے نام نکلوانے کی ابھی تک کوئی درخواست نہیں دی گئی۔

صرف زبانی باتوں پر ریکارڈ میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی، حکومت اس فیصلے کیخلاف عدالت سے رجوع کرے گی،فواد چوہدری نے تنقیدی ٹویٹ میں کہا کہ اتنی جلدی تو پنچایت میں بھی فیصلہ نہیں ہوتا، اربوں روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث شخص کو باہر جانے کی اجازت ملنا قانون کے ساتھ مذاق ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا کہ ماضی میں ملک کے حکمران رہنے والوں کو بھاگنے کی بہت جلدی ہے، ایسے بھاگ رہے ہیں جیسے چور چوری کے بعد بھاگتا ہے، ان چوروں کی تیزیاں دیکھیں کہ ابھی عدالت کے آرڈر کی سیاہی خشک نہیں ہوئی اور روانگی کے لئے ایئرپورٹ پہنچ گئے، اب نہ ان کو کورونا کا ڈر آیا نہ ان کی کمر میں درد ہوا اور نہ ہی انہیں وطن عزیز کے اسپتال اور ڈاکٹر اچھے لگے۔

معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر بھی پیچھے نہ رہے،سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ شہباز شریف کا بھائی، بیٹا اور داماد بھی اشتہاری ہیں، ملزم اور مجرم لندن میں اکٹھے عید منائیں گے،وزیر مملکت اطلاعات فرخ حبیب نے کہا شہباز شریف نے تو اپنے مفرور بھائی نواز شریف کی گارنٹی دی تھی،معاون خصوصی پنجاب فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو گرمی ستا رہی ہے، ان کا دل لندن کی ٹھنڈی ہوائیں لینے کیلئے مچل رہا ہے۔

دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار اور میزبان کامران خان نے بھی شہباز شریف کی روانگی پر دو سوالات اٹھائے، کامران خان نے فیس بک پوسٹ پر توجہ مبذول کروائی کہ حیران ہوں کہ جب پاکستان برطانیہ کی کووڈ ریڈ لسٹ میں شامل ہے تو پاکستانی اب بھی برطانیہ کا سفر کرسکتے ہیں، شہباز شریف کل لندن کا سفر کررہے ہیں یا یہ کوئی خصوصی عمل ہے؟ انہوں نے گذشتہ روز برطانوی ہائی کمشنر سے بھی ملاقات کی تھی۔

کامران خان نے ایک اعتراض یہ بھی اٹھایا کہ اپوزیشن میں شریف فیملی کے بیرون ملک سفری معاملات آناً فاناً جادوئی انداز میں طے ہوتے ہیں، اسی لئے شہباز شریف کے معاملات عدالتوں اداروں سے ہوتے ہوئے چند گھنٹوں میں طے ہوگئے، ویسے تو پاکستانی برطانیہ کی ریڈ لسٹ پر ہے سفر پر پابندی ہے شہباز صاحب پر اطلاق نہیں ہوگا کل وہ لندن میں ہوں گے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>