اجمل وزیر پر لگے الزامات کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کر دی

اجمل وزیر پر لگے الزامات کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کر دی

اجمل وزیر پر لگائے گئے الزامات ثابت نہ ہو سکے، آڈیو ٹیپ کا سابق مشیر کے ساتھ کوئی تعلق ثابت نہیں ہوسکا، تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ پیش کر دی۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ برس اجمل خان وزیر کی ایک آڈیو ٹیپ منظر عام پر آنے پر تحقیقات کا اعلان کیا گیا تھا جس کے تحقیقاتی رپورٹ صوبائی حکومت کو موصول ہو گئی ہے۔

اس ضمن میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا مشیر کامران بنگش نے ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سینئر بیوروکریٹ صاحبزادہ محمد سعید کی سربراہی میں انکوائری کمیشن نے تحقیقات مکمل کی۔ ان کے ساتھ سابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس طارق جاوید اور ڈسٹرکٹ اور سابق ڈسٹرکٹ سیشن جج محمد بشیر بھی کمیشن کے ممبران تھے۔

انکوائری کمیشن نے سرکاری حکام، ایڈورٹائزنگ ایجنسی اور دیگر متعلقہ لوگوں کے بیانات قلمبند کئےاور لیک ہونے والی آڈیو ٹیپ کی تحقیقات فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی فارنزک لیب میں کی۔

فرانزک تحقیقات میں آڈیو ٹیپ کی صداقت اور اس کا سابق مشیر کے ساتھ کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔ لہذا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اجمل وزیر کی حد تک اس تحقیقاتی رپورٹ کو فائل کر کے پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

واضح رہے کہ لیک ہونے والی آڈیو میں اجمل وزیر کے مبینہ طور پر ایک اشتہاری ایجنسی سے کمیشن لینے کے کچھ معاملات منظر عام پر آئے تھے اور اس حوالے سے فرانزک تحقیقات کی گئیں۔

اجمل وزیر کی جگہ کامران بنگش کو اس عہدے پر تعینات کیا گیا جو پہلے ہی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے بلدیاتی حکومت، انتخابات اور دیہی ترقی تھے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>