کیا ریپ کی شکار خاتون کی داد رسی نہ کرنے پر سعودیہ میں پاکستانی سفیر کو ہٹایا گیا؟

سعودی عرب میں پاکستانی سفیر کی معطلی کے پیچھے کی اصل وجہ منظر عام پر آگئی

سعودی عرب میں پاکستان کے سابق سفیر کی معطلی کے پیچھے کی اصل وجہ منظر عام پر آگئی ہے، اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بھی اشارتاَ گفتگو کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اپنی ایک پریس کانفرنس نے دوران انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب میں مقیم ایک پاکستانی خاتون کی جانب سے پاکستان سٹیزن پورٹل پر درج کروائی گئی شکایت سعودی عرب میں پاکستانی سفیر کی معطلی کی اصل وجہ بنی ہے۔

انڈیپنڈنٹ اردو کی صحافی مونا خان نے اس شکایت کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں تفصیل بیان کی ہے جس کے مطابق سعودی عرب کے لیبر ویزہ پر پاکستان سے جانے والی خاتون اپنے کفیل کے گھر میں بطور "میڈ ” کام کیا کرتی تھی مگر اس دوران اس کے کفیل نے مبینہ طور پر اس کے ساتھی جنسی زیادتی شروع کردی۔

خاتون نے سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران شادی بھی کی مگر اس کی طلاق ہوگئی، کفیل کی جانب مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا بار بار نشانہ بننے کے بعد پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا اور ساری تفصیل ان کے سامنے رکھ کر درخواست کی کہ اس کی کفیل سے جان چھڑوائی جائے۔

پاکستانی سفارت خانے کے ایک افسر جس کے سامنے متاثرہ خاتون نے اپنا سارا معاملہ رکھا اس افسر نے انتہائی سنگ دلی اور بدتمیزی سے عورت کو مبینہ طور پر دھتکارا اور کہا کہ آپ کی تو تین بار طلاق ہوچکی ہے آپ کو تو پولیس کے حوالے کردیا جانا چاہیے، خاتون پولیس کی دھمکی سے ڈر گئی اور الٹے پیروں پاکستانی سفارت خانے سے واپس چلی گئی اور کبھی پلٹ کر اپنی داد رسی کیلئے بھی نہیں آئی۔

بعد ازاں متاثرہ خاتون نے اپنی آب بیتی سیٹیزن پورٹل پر ایک شکایت کی صورت میں درج کروائی، یہ شکایت وزیراعظم کے علم میں لائی گئی تو انہوں نے شدید رنجیدگی کا اظہار کیااور اس واقعےکے حوالے سے تحقیقات کا حکم دیا۔

وزیراعظم کے نوٹس لینے اور تحقیقات کے حکم کے بعد نئے نامزد سفیر لیفٹیننٹ جنرل(ر) بلال اکبر کو سعودی عرب بھجوا کر وہاں سے بشمول پاکستانی سفیر راجہ علی اعجاز کے 6 اراکین سمیت پاکستان طلب کیا گیا اور یہاں پہنچنے پر ان سب کو معطل کردیا گیا۔

راجہ اعجاز کی مدت ملازمت 18 مئی کو ختم ہونے والی تھی اور ان کی جگہ بلال اکبر کو نیا سفیر نامزد کیا گیا تھا، لہذا ریٹائرمنٹ سے کچھ عرصہ قبل انہیں بلا کر معطل کردیا گیا اور نامزد سفیر کو پہلے چارج دیدیا گیا۔

  • ان حرام خور سفارشی سفیروں کو ایک لائن میں کھڑا کر کے گولی سے اڑا دینا چائیے۔ اور ان کے ساتھ حرام خور ججوں کو بھی

  • بھائی جان جو بھی کر لو یہاں سارے عہدے سارے مرتبے بوٹوں کو ہی دینے کا رواج ہے، تھوڑا ٹائم اور گزرنے دیں عام عوام کو کھانے پینے کی بھی اجازت نہیں ہوگی

    • تو جو کارنامہ سعودی سفارتکاروں نے کیا، کیا وہ بھی بوٹوں والے تھے؟

      اور بوٹوں والے پھر بھی بات سن لینگے لیکن یہ بے غیرت سویلین تو اپنے اپکو فرعون سمجھتے ہیں۔۔

  • topi drama…. an excuse to arrange the post for a general…. what is his qualification to be the ambassador of Pakistan? Iskay baad agar diplomatic staff aur foreign office mayn baychaini na ho tou kiya ho…. Khan saab , you disappoint us with every passing day…. 🙁

    • حرام خور سفارشی سفیر
      say zaida he hay qualification is general ke, Altaf kallu kay hath dal ker sidha kerdia tha aur Karachi kay halaat ko bhe, ab haraam khor safeer or Ganjjjji sarkaar ke bari hay, yehe general un kay bhe haath chahra ker mamla theek keringay

  • سارے حرام خور جاہل کوئی چاچے کا پتر کویئ مامے کا پتر کسی کے سسر نے لگوایا یہ ساری سفارشیے بدنام ہی کریں گے ملک کو بس

  • is main Saudi ghair saudi kee baat nahi hay, 90% Pakistni sifaratkar dunia bhar main aisay hee hain. Sab parchi per atay hain, unprofessional unserious log. literally europe main Pakistani consulates ka hulia dekh ker lagta hay kay kuch paisay walay desi students ka ghar ho, jo shugal laga rahay hain ho her waqt. or kabhi kabhi kuch kaam bhi kerletay hon.

  • I will not be surprised if Raja Ali Ejaz, the ousted ambassador from Saudi Arabia, is appointed in some low-profile country ( e.g. in Africa) for some time and , after 2-3 years, appointed in some European country. Every department in Pakistan takes care of its own people and absolves them from wrongdoings after some time, if not immediately. You will see that all officers of Foreign Office, including Foreign Secretary, will stand by Raja Ali Ejaz. Angraiz khud to yahan say chalay gaey lekin brown masters ham par rule karnay kay liay chhor gaey.

  • میں نے کچھ مہینے پہلے اپنے وزیر اعلیٰ اور وزیراعظم سے مدد کی اپیل کی تھی میں پڑھیں لکھی لڑکی ہوں میں نے ایم۔اے ایجوکیشن کیا ہوا ہے ہے میری بس اتنی سی ریکوسٹ تھی کہ مجھے میری بیٹی کو پالنے کے لئے کوئی سرکاری روزگار دے دیں لیکن کسی نے کوئی بات ہی نہیں سنی۔میں سسرال سے بہت تنگ آ کر ان سے اپیل کی تھی ہم روز روز تشدد اور زہنی ٹارچر برداشت نہیں کر سکتے ۔اور ہم بھی پاکستان قوم کی بیٹی ہیں پھر ہماری کیوں کوئی مدد نہیں کرتا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >