حکومت کاحدیبیہ پیپرز ملز کیس کی دوبارہ تحقیقات کا فیصلہ،کیس کو بند کیوں کیا گیا تھا؟

حکومت نے شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپرز ملز کیس کی دوبارہ تحقیقات کا فیصلہ کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ حدیبیہ کا مقدمہ شریف خاندان کی کرپشن کا سب سے اہم سرا ہے، اس مقدمے میں شہباز شریف اور نواز شریف مرکزی ملزم کی حیثیت رکھتے ہیں، جو طریقہ حدیبیہ میں پیسے باہر بھیجنے کیلئے استعمال ہوا اسی کو بعد میں ہر کیس میں اپنایا گیا۔

چوہدری نے مزید لکھا کہ وزیراعظم کوقانونی ٹیم نےشہباز شریف مقدمات پر بریفنگ بھی دی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حدیبیہ کیس کوانجام تک پہنچانا بہت اہم ہے۔ حدیبیہ پیپرز ملز کیس میں شریف خاندان کیخلاف میگا منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔ شریف ‏خاندان نےبےنامی بینک اکاؤنٹس سے بھاری رقوم منی لانڈرنگ کی۔

وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں بتایا کہ حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ ‏نئے سرے سے تفتیش کامتقاضی ہے اور تفتیش نئےسرے سےشروع کرنےکی ہدایات دی جارہی ‏ہیں۔

واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت کے دوران نیب کی جانب سے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے 25 اپریل 2000 کو لیے گئے اس بیان کی بنیاد پر دائر کیا جس میں انھوں نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔

اسحاق ڈار بعدازاں اپنے اس بیان سے منحرف ہو گئے اور کہا کہ یہ بیان انہوں نے دباؤ میں آ کر دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اکتوبر 2011 میں نیب کو اس ریفرنس پر مزید کارروائی سے روک دیا تھا جس کے بعد 2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے یہ ریفرنس خارج کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا تھا کہ نیب کے پاس ملزمان کے خلاف ناکافی ثبوت ہیں۔

 ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، حمزہ شہباز، عباس شریف، شمیم اختر، صبیحہ شہباز، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر فریق ہیں جب کہ اسحاق ڈار کو بطور وعدہ معاف گواہ شامل کیا گیا۔

پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو نے حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس دوبارہ کھولنے کی اپیل دائر کی تھی۔

  • پوری بات لکھیں کہ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، رویو پٹیشن بھی خارج ہوگئی
    اب اگر نیازی وہاں تک کا بھی زور لگا لے تو یہ کیس دوبارہ نہیں کھل سکتا

  • One of the reasons that Supreme Court rejected the review petition of NAB was that the NAB appealed in SC many years after the verdict of LHC. That gives the impression that NAB also looks at political expediency and orders from outside. When LHC stopped NAB from working on Hudaibia case in 2011, NAB should have gone into Supreme Court. But, it didn’t because General Kiyani was COAS and there were pleasant relations between PMLN and GHQ. NAB files petition in SC at the end of 2016 when General Raheel was COAS and there were tense relations between PMLN government and GHQ because of, a) Hamid Mir versus ISI saga of 2014, and b) the so-called Dawn Leaks of 2016.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >