لاہور:خاتون کا سابق شوہر پر مذہب چھپانے کا الزام، ایف آئی اے کی تفتیش میں انکشافات

لاہور میں ایک خاتون نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کو اپنے سابق شوہر کیخلاف ایف آئی آر درج کروائی ہے جس میں الزام لگایا کہ دس سالہ شادی میں شوہر نے اپنا مذہب چھپایا، خاتون نے مزید الزام لگایا کہ اس نے اپنی پہلی شادی بھی چھپائی ،اسلام قبول کرنے کا جھوٹ کہا اور اس کے قتل کی سازش بھی کی۔

ایف آئی اے نے دوران تفتیش اس کے سابق شوہر کے کچھ آڈیو کال ریکارڈز برآمد کیے،جس میں اس شوہر نے سابق بیوی کے والد اور اس کے بھائی کو قتل کرنے کا حکم دیا،مشتبہ شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ قتل کی آدھی رقم دے دی آدھی بیوی کے قتل کے بعد ادا کی جائے گی،پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا، ملزم نے ضمانت کے لئے درخواست دائر کی ، جسے سیشن کورٹ نے خارج کردیا، سابق شوہر جیل کاٹ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خاتون کے والد کے اپنے سابق داماد کے اہل خانہ سے کاروباری تعلقات تھے۔ ملزم کے اہلخانہ نے 2011 میں شادی کیلئے کہا تھا،دونوں کی دو بیٹیاں ہیں،دوسری بیٹی پیدا ہونے کے بعد خاتون نے پہلی بار اپنے شوہر سے اس کی نکاح ناما کے لئے اسکول میں اپنی بڑی بیٹی کے داخلے کے لئے پوچھا،مبینہ طور پر اس کا شوہر اسے دینے سے گریزاں ہے۔

خاتون نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایک دن اس کے اس وقت کے شوہر ایک خاتون اور دو بچوں کے ساتھ گھر آئے اور انہیں اطلاع ملی کہ شوہرنے اس سے قبل اس عورت کے ساتھ شادی کرلی ہے،بعد میں سسرال سے پتا چلا کہ وہ مسلمان بھی نہیں۔

کچھ دن بعد ملزم اپنی پہلی بیوی کے ساتھ اس کے والدین کے گھر گیا اور اسے بتایا کہ ان سب نے اسلام قبول کرلیا،اس کے قائل کرنے کے بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ جانے پر راضی ہوگئی۔

خاتون نے الزام لگایا کہ اس کے شوہر نے اس کو مارا پیٹا بھی، جس پر خاتون نے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی، بعد میں ملزم نے خاتون کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز آن لائن لیک کردیں، اس کے بعد وہ ایف آئی اے سائبر کرائم سیل گئی اور ایف آئی آر درج کروائی۔

  • اداروں میں جاہل بیٹھے ہیں۔ اسلام غیر مسلم سے شادی کی اجازت دیتا ہے لہذا ایف آی آر ہی غلط کاٹی گئی ہے۔ عورت کی ویڈیوز لیک کرنے والا کیس مضبوط ہے اس پر چودہ سال تک سزا ہوسکتی ہے مگر تحیقق کے بعد کہ واقعی اس نے ایسا کیا ہے یا عورت کا ڈرامہ ہے عموما دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی جھوٹے مقدمات درج کروا دیتی ہے

    • Janab FIR ghair muslim hunay per naheen dhoka dehi ki karai gai hugi yaqeenan, apna mazhab chupa kr dhoka dya gya hay . . . Hamari awam main bhe fatwa jari kr deny ka rawaj hay . . . . Jesay aap nay sochy samjhay baghair poray idaray ko he ragar dya

    • Muslim men can merry Christian or Jewish girl only [Atheist, hind, sikh and others are not allowed]. A muslim women cannot merry non muslim.
      Please read about Islam before commenting. Thanks.

      • This is what I have heard from so many people. But I do not have any authentic refrence. Could you please provide us any islamic authentic proof that woman can not merry Non-Muslim. Thank you.

        • Oh bahi, hamara islam bara flexible hay, yeah zyda tar aurat say start hota hay aur aurat pay hi khatam ho jata hay… aur uski aisi aisi tojeeh nikali jati hay k banda sun k heryan hojata hay….
          yeah wala moamla bhi aisa hi kuch lagta hay jismayn aurat ko tou mana kardiya hay lakin mard chahay jis say marzi hay shadi karlayn…

    • اسلام میں مرد اہل کتاب سے شادی کرسکتا ہے جبکہ اسکی بیوی اپنے دین پر رہے جبکہ مسلمان عورت کسی بھی غیر مسلم سے شادی نہیں کرسکتی


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >