ورلڈ بینک نے احساس پروگرام کو دنیا کے 4 بڑے پروگرام میں شامل کرلیا

احساس پروگرام کی دنیا بھر میں پذیرائی۔۔ ورلڈ بینک نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کو عالمی سطح کے پہلے 4 بڑے سماجی تحفظ پروگراموں میں کرلیا۔

عالمی بینک نے عالمی سطح پر کوویڈ 19 سے نمٹنے کے لیے سماجی تحفظ پروگراموں پر مبنی رپورٹ جاری کردی۔ لیونگ پیپر کے نام جاری کردہ رپورٹ 18 شراکت داروں اور معاونین کی مدد سے تیار کی گئی ہے 650صفحات پر مشتمل ہے

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح سے مختلف ممالک اور خطے وبائی مرض کے تناظر میں سماجی تحفظ کے اقدامات کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد کررہے ہیں ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 20مارچ 2020سے 14مئی 2021 کے درمیان سماجی تحفظ کے اقدامات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور 222ممالک یا خطوں میں مجموعی طور پر 3333سماجی تحفظ کے منصوبے بنائے گئے ہیں یا ان پر عملدرآمد کیا گیا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق لوگوں کی شمولیت کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان عالمی سطح پر چوتھے نمبر پر ہے اور 100ملین سے زائد آبادی کی شمولیت کے لحاظ سے عالمی سطح پر پاکستان کا تیسرا نمبر ہے، عالمی بینک کے مطابق اس سلسلے میں صرف منتخب ممالک نے متاثر کن چھ ہندسوں کا ہدف حاصل کیا ہے ۔

پاکستان کا احساس ایمرجنسی کیش پروگرام ان میں سے ایک ہے ۔اس پیپر کے مرکزی مصنف یوگو جینٹیلینی ہیں جو عالمی بینک میں سماجی تحفظ کے شعبہ کے سربراہ ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے احساس پروگرام کو ان پروگراموں میں اعلی مقام حاص ہے جنہوں نے ایک پلاننگ سے اصل کوریج ریٹ کے لحاظ سے بہتر کارکردگی کا مظاہر ہ کیا ۔رپورٹ کے مطابق، سماجی ، معشی تحفظ کے بیشتر اقدامات سماجی معاونت کے طورپر فراہم کئے جاتے ہیں ۔ یہ 55فیصد عالمی پروگراموں کی نمائندگی کرتے ہیں ۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان نے نئے غریب مستحق افراد کے اندراج کیلئے ایک جدید ہائبرڈ طریقہ کار کو اپنایا ۔ 8171ایس ایم ایس شارٹ کوڈ سروس اور ویب پورٹل کے ذریعے درخواستیں طلب کی گئیں ۔

اعدادو شمار کے تجزیات، انفرادی قومی شناختی کارڈ نمبرز کے استعمال، قومی سماجی و معاشی رجسٹری، دولت سے متعلق پراکسی (سفر، ٹیکس، بلنگ، اثاثوں کی ملکیت کا ڈیٹا اور سرکاری ملازمت کی حیثیت) سے اہلیت کا اندازہ لگایا گیا ۔

ورلڈبنک کے رپورٹ کے مطابق یہ نظام اعدادو شمار سے چلنے والا، مکمل کمپیوٹرائزد ، قانون پر مبنی، شفاف اور سیاسی طور پر غیرجانبدار تھا ۔ ادائیگیوں کی بائیومیڑک تصدیق کی گئی ۔ احساس کے تحت گزشتہ ایک سال کے دوران، ڈیجیٹل نظام قائم کیا گیا۔

احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت گزشتہ سال 15ملین گھرانوں میں 12000روپے فی خاندان کے وظائف تقسیم کئے گئے یعنی 100ملین سے زائد افراد یا ملک کی آدھی آبادی کی مالی معاونت کی گئی ، جو ملک کی تاریخ میں اب تک کے سب سے بڑے سماجی تحفظ پروگرام کی نمائندگی کرتا ہے ۔

احساس ایمرجنسی کیش کیلئے تخفیف غربت کا نیا فریم ورک قائم کیا گیا، بالخصوص، نیا بائیومیٹرک کا نظام، درخواست کیلئے ایس ایم ایس سروس اور ویلتھ پروفائلنگ کا بڑا طریقہ کار قائم کیا گیا ۔اس پروگرام کی میراث صرف قلیل مدتی امداد نہیں ہے ۔ کویڈ19کے بعد، احساس ایمرجنسی کیش سماجی تحفظ کی از سر نو ڈیزائن کا ایک اہم جز ہوگا اور اس سے احساس کے تحت تصور کی گئی سماجی بہبود کی عالمی بحالی میں مدد ملے گی ۔

احساس ایمرجنسی کیش پروگرا م سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کویڈ19جیسے وبائی مرض کی وجہ سے معاشی نقصان کا مقابلہ کرنے کیلئے کس طرح سے نقد مالی معاونت کے پروگراموں کو استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ یہ نقطہ نظر کویڈ19کے بعد دنیا میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات پر قابو پانے اور پائیدار ترقیاتی اہداف کی پیشگی حصولیت میں بھی مدد فراہم کرسکتا ہے ۔

  • Well done PTI and Imran Khan. This is how nations are built. International recognition for projects like 10 billion Tsunami and now Ehsaas is just the beginning of how true leadership work.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >