لاہور: پیسے لیکر کرونا ویکسین لگانے والے محکمہ صحت کے 18 ملازموں کے خلاف ایکشن

لاہور میں واقع پی کے ایل آئی اسپتال میں قائم ویکسینیشن سنٹر میں تعینات محکمہ صحت کا عملہ ویکسین کیلئے آنے والے شہریوں کو جلدی ویکسین لگوانے کا لالچ دے کر ان سے پیسے بٹورتا تھا۔

تاہم اب صوبائی حکومت نے ان تمام ملازمین کے خلاف تحقیقات کر کے انہیں فوری طور پر معطل کر دیا ہے اور ان کی معطلی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ لاہور میں ویکسین سینٹرز میں پیسے لیکر ویکسین لگانے کی حقیقت سامنے آگئی ہے، محکمہ صحت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 18 ملازمین کو معطل کر دیا ہے اور ان کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

معطل ہونے والے تمام 18 ملازمین پی کےایل آئی میں تعینات تھے، جہاں وہ پیسے لیکر عوام کو ویکسین لگا رہے تھے، معطل کئے گئے ملازمین لوگوں سے پیسے لیکر انہیں قطاروں سے بچاتے اور وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ ان کی ویکسینیشن کراتے۔

محکمہ صحت پنجاب کے مطابق پیسے لیکرویکسین لگانے والےملازمین کو شوکاز بھی جاری کئےتھے بعد ازاں انکوائری میں الزام ثابت ہونے پر سب کومعطل کیا گیا ہے۔ جن میں نواز جوہن، سجاد علی، محمد تنویر، بابر علی، کرامت علی، امجد علی، تیمور فیاض، محمد یوسف، فقیر حسین ودیگر شامل ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >