عوام سکھر ٹریک کی خستہ حالی کا بتاتی رہی اور ریلوے افسران خط خط کھیلتے رہے

عوام سکھر ٹریک کی خستہ حالی کا بتاتی رہی اور ریلوے افسران خط خط کھیلتے رہے

گھوٹکی حادثے کے بعد سکھر کا ٹرین کا سفر غیر محفوظ اور خطرناک قرار دے دیا گیا جبکہ گزشتہ ہفتہ میں سکھر ریلوے کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے ٹریک کی خستہ حالی سے متعلق سی ای او ریلوے کو رپورٹ دی تھی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ایک اور بڑا ٹرین حادثہ ہوا ہے جس میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ڈی ایس ریلوے سکھر نے ٹریک کی خستہ حالی سے متعلق گذشتہ ہفتے سی ای او ریلوے کو مراسلہ لکھا تھا۔ مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سکھر ڈویژن میں مین لائن کے 456 کلومیٹر ٹریک کی حالت خراب ہے جبکہ برانچ لائن کا 532 کلومیٹر ٹریک بھی خستہ حالی کا شکار ہے۔

دوسری جانب ایک اور رپورٹ بھی منظر عام پر آئی ہےجس میں ڈی ایس ریلوے سکھر کی ذہنی حالت خراب ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ وفاقی انسپکٹر برائے ریلوے فرخ تیمور نے چند مہینے قبل کراچی ایکسپریس کو منڈو ڈیرو میں حادثہ پیش آنے کے بعد ڈی ایس طارق لطیف کے طرز عمل پر تیار کی تھی۔

عوام سکھر ٹریک کی خستہ حالی کا بتاتی رہی اور ریلوے افسران خط خط کھیلتے رہے

انسپکٹر نے ڈی ایس کے خلاف وزارت ریلوے کو متنبہ کیا اور بتایا کہ اس کی موجودگی میں مزید حادثات پیش آسکتے ہیں۔ انہوں نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پر الزام لگایا کہ وہ ذہنی طور پر بیمار ہیں جبکہ انہوں نے ڈی ایس کے علاج معالجے کی سفارش کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ ڈرائیوروں کو ٹریک پر ٹرینوں کی رفتار تیز کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

عوام سکھر ٹریک کی خستہ حالی کا بتاتی رہی اور ریلوے افسران خط خط کھیلتے رہے

اس حوالے سے اینکر جمیل فاروقی نے ٹوئٹر پر پوسٹ شیئر کی۔ انہوں نے لکھا کہ کچھ دن قبل ایک دوست نے خبر دی تھی کہ ”ریتی“ کے قریب ریلوے پٹری کے نیچے لگی فِش پلیٹیں ٹوٹ جانے کے باعث ریلوے ٹریک انتہائی خطرناک شکل اختیار کرچکا ہے جو 100 فی کلومیٹر فی گھنٹہ سے ذائد چلنے والی ٹرینوں کے لئے حادثے کا سبب بن سکتا ہے ،آج عین اُسی جگہ حادثہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ گھوٹکی کے علاقے ڈہرکی کے قریب 2 ٹرینوں میں خوفناک تصادم کے نتیجے میں 51 مسافر جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ ملت ایکسپریس کی بوگیاں الٹ کر دوسرے ٹریک پر جاگریں۔ مخالف سمت سے آنے والی سرسید ایکسپریس بوگیوں سے ٹکرا گئی۔

  • 1990
    ميں اسی مقام پر يعنی سانگی پھاٹک پر ۴۰۰ افراد ہلاک ہوئے، ۷۰۰ سے زائد زخمی ہوئے
    اُس وقت پہلی دفعہ احساس ہوا کے اگر ايدھی نہ ہوتا تو پورے سندھ کی ايمبولينسنس بھی وہ نہيں کر سکتيں تھيں جو ايدھی نے کيا۔ ہم آج بھی وہيں کھڑے ہيں ۳۱ سال بعد

  • یہ جاہل قوم جگاڑ کی ایکسپرٹ ہے
    ان کا وطن سے پیار صرف ملی نغموں اور انٹرنیٹ
    پر کومنٹ کرنے تک ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >