آئی ایم ایف کی شرائط: وزیرخزانہ شوکت ترین کا اہم اعلان

آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور بجٹ۔۔ بجلی کی قیمتیں اور ٹیکس کی شرح بڑھانے سے متعلق حکومت کیا کرے گی؟ وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتادیا

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بجلی اور گیس کے ریٹ مزید بڑھانے جبکہ تنخواہ دار طبقے پر 150 ارب کے نئے ٹیکس لگانے کا کہہ رہا ہے، حکومت نے یہ دونوں شرطیں ماننے سے انکار کردیا ہے۔

پری بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہ آئی ایم ایف سے شرائط پر دوبارہ مذاکرات جاری ہیں آئی ایم ایف کو واضح طورپرکہہ دیا کہ ہم ٹیکس،بجلی کے نرخ نہیں بڑھاسکتے، ہم غریب اور تنخواہ دارطبقے پرمزید بوجھ نہیں ڈالیں گے، بعض شعبوں میں اقدامات کردئیے ہیں۔

شوکت ترین نے کہا ہم نے آئی ایم ایف کوگروتھ کیلئےمتبادل پلان کابتادیاگیاہے، آئی ایم ایف کی شرائط ٹیکس بڑھانے کی بجائے دوسرے طریقے سے کریں گے۔غریب اور تنخواہ دار طبقے پر بوجھ نہیں ڈالیں گے۔

فنانشل ٹائمز کی خبر پر ردعمل دیتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ میں نے آئی ایم ایف پروگرام پر امریکہ کے اثرانداز ہونے کا کوئی بیان نہیں دیا، فنانشل ٹائمزنےامریکا سے متعلق میرے متعلق بالکل غلط اور بے بنیاد خبر دی ہے۔ میں نے انٹرویو میں امریکا سے متعلق کوئی بات نہیں کی اور اس خبر کی باضابطہ تردید ہم جاری کررہے ہیں۔

وزیرخزانہ نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں لیکن حکومت نے ایک پوزیشن لی ہے اور حکومت اس پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹے گی، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں، ان کی اور ہماری منزل ایک ہے وہ بھی پائیدار گروتھ چاہتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ادارہ شماریات کو آزاد اورخود مختار بنانے کے اقدامات کیے ہیں، اسدعمر نے بطور وزیر خزانہ ان پر پریشر ختم کیا، ادارہ شماریات کو کسی وزارت کے تحت نہیں ہونا چاہیے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہم کئی اشیاء درآمد کرتے ہیں درآمدی اشیاء کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا، مہنگائی قابو کرنے کے لئے انتظامی سٹرکچر بنانا ہوگا،

شوکت ترین نے دعویٰ کیا کہ اگلے سال کے بجٹ میں آپ کومہنگائی میں کمی نظرآجائے گی، اگلے سال بڑی تبدیلی آئے گی،ایف بی آر کی ہراسمنٹ ختم کردینی ہے، کوئی ایف بی آرکا آدمی کسی کو نوٹس نہیں دے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ توانائی کا سیکٹر بلیک ہول ہے، حکومتی ملکیتی ادارے خسارے میں ہیں، ڈسکوز، پی آئی اے، ریلوے خسارے میں ہیں، جو سرکاری ادارے خسارے میں ہوں گے ان کی نجکاری کی جائے گی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر نقصان ہورہا ہے

فیٹف سے متعلق شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ، فیٹف کے اگلے سیشن میں پاکستان کو ریلیف ملنے کا امکان ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ گرے سے وائٹ لسٹ میں آجائیں گے، لیکن بہت کچھ بہتر ہوجائے گا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>