چینی اسکینڈل : ایف آئی اے کا جہانگیرترین اور شہبازشریف کی گرفتاری سے متعلق فیصلہ

فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی نے جہانگیر ترین، ان کے بیٹے علی ترین، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو چینی اسکینڈل میں گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے نے چینی اسکینڈل میں جہانگیر ترین، شہباز شریف اور دونوں کے بیٹوں کو گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ایف ائی اے نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کو بھجوا دی ہے۔ اب جہانگیر ترین، شہباز شریف سمیت دیگر شوگر مل مالکان کے خلاف کارروائی ایف آئی اے کے بجائے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کرے گا۔

ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق شوگر مل مالکان سٹہ بازی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ تمام ملوث افراد نے 100 ارب روپے سے زائد کی رقم چینی کی سٹہ بازی کے ذریعے کمائی ہے جب کہ چینی کی ذخیرہ اندوزی میں بھی شوگر مل مالکان ملوث ہیں، جہانگیر ترین، حمزہ شہباز، شہباز شریف، خسرو بختیار سمیت دیگر شوگر مل مالکان کے کیش بوائے اور سٹہ باز بروکرز بھی ایک ہی نکلے۔

ایف آئی اے کے مطابق جب تحقیقات مکمل ہوگئی ہے، ضروری نہیں کہ گرفتار بھی کیا جائے۔

مزید کہا گیا کہ چینی کی سٹہ بازی کی وجہ سے اربوں روپے کا ٹیکس بھی چوری کیا گیا اور ایف آئی اے ٹیکس ریکور نہیں کرسکتی، یہ کام ایف بی آر کا ہے، ایف آئی اے نے جو فراڈ ہوا اس کی مکمل چھان بین کی۔

ایف آئی اے نے تمام ریکارڈ اور تحقیقاتی رپورٹ ڈی جی ایف آئی اے سمیت شہزاد اکبر کو بھیجوا دی ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں سٹہ بازی سے لیکر کمیشن ایجنٹ بروکرز سمیت شوگر مافیا اور مالکان سب کے بارے میں تفصیل کے ساتھ ریکارڈ فراہم کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کو جہانگیر ترین کی جانب سے بھی کچھ شواہد اور دستاویزات فراہم کیے گئے ہیں جو جہانگیر ترین نے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور ایف بی آر کے سابق اعلی افسران کی مدد سے تیار کیے، ان کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>