آئی ایم ایف کی شرائط نہ ماننے سے پاکستان کو کوئی نقصان ہو سکتا ہے؟

آئی ایم ایف کی شرائط نہ ماننے سے پاکستان کو کوئی نقصان ہو سکتا ہے؟

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان پر ٹیکسوں میں دی جانے والی غیر ضروری چھوٹ ختم کرنے کا دباؤ ہے اور ٹیکسوں میں چھوٹ کی وجہ سے رواں مالی سال کے دوران ریونیو میں کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس سلیب کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے اور ملازمین کو ملنے والے میڈیکل الاؤنس سمیت جن الاؤنسز پر ٹیکس کی چھوٹ ہے وہ بھی واپس لینے کا کہا جارہا ہے۔

تاہم حکومتی ٹیم اور عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کے درمیان ایم ای ایف پی میں طے شدہ شرائط پر عملدرآمد کے لیے اگلے بجٹ میں 200ارب روپے سے زائد کے ٹیکس عائد کرنے اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سمیت دیگر معاملات پر ڈیڈ لاک ختم نہیں ہوسکا۔

نتیجے کے طور پر پاکستان کے چھٹے اقتصادی جائزے کی تکمیل میں تاخیر کا خطرہ پیدا ہوگیا اور پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضے کی اگلی قسط کا اجرا تاخیر کا شکار ہونے کا امکان ہے۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ سازی سے متعلق مذاکرات جاری ہیں لیکن کوئی بریک تھرو نہیں ہوسکا اور آئی ایم ایف ابھی تک اپنی شرائط میں نرمی پر آمادہ نہیں۔

آئی ایم ایف کا موقف ہے کہ پچھلے کئی برس سے انتظامی اقدامات کے ذریعے اضافی ریونیو جمع کرنے کا ہدف رکھا جاتا ہے مگر پاکستان نے کبھی بھی اس مد میں کوئی خاطر خواہ ریونیو جمع نہیں کیا۔ آئی ایم ایف ٹیکس ریونیو بڑھانے سے متعلق حکومتی ٹیم کی جانب سے پیش کردہ متبادل پلان تسلیم نہیں کررہا اور متبادل پلان میں ریونیو بڑھانے کے لیے پیش کردہ جواز سے بھی متفق نہیں۔ آئی ایم ایف حکومت کی جانب سے ایڈمنسٹریٹو اور انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے 215 ارب روپے کے اضافی ریونیو اکٹھا کرنے کی تجویز سے بھی متفق نہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان نے تین ماہ کے دوران متبادل پلان کے مطابق ریونیو گروتھ دکھائی تو اس صورت آئی ایم ایف سے معاملات طے پانے میں آسانی ہوگی ورنہ پہلی سہ ماہی کے بعد اقدامات اٹھائے جائیں گے اور بجٹ کے بعد آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے۔

  • لگتا ہے اب کہ بار حکومت کو آئی ایم ایف کی اتنی پروا نہیں کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ڈالرز کہاں سے حاصل ہو سکتے ہیں۔۔؟


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >