انٹرنیٹ سستا ہو گا؟وزیر خزانہ کا ٹیلی کام صارفین کیلئے ٹیکس میں بڑی چھوٹ کا اعلان

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اقتصادی سروے 21-2020 جاری کردیا اور اس دوران پری بجٹ پریس کانفرنس میں یقین دہانی کرائی کہ ٹیلی کام سیکٹر کے لیے ریلیف پیکج منظور کیا جا رہا ہے۔ جس کے تحت آئندہ بجٹ میں اس شعبے پر لگنے والے ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ کورونا لاک ڈاؤن کے دوران انٹرنیٹ اور ای کامرس کا استعمال بڑھ گیا جس کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ میں ٹیلی کام آلات کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں چھوٹ، ٹیلی کام سیکٹر پر عائد ٹیکسز میں کمی اور ٹیلی کام سیکٹر کے لیے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح کم کرنے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کی شرح کم کر کے 5 فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی ہے، ٹیلی کام سروسز پر عائد 17 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ صوبوں کی سروسز پر جی ایس ٹی کی الگ الگ شرح نظام کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

شوکت ترین نے بتایا کہ سندھ میں جی ایس ٹی 13 فیصد، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 15 فیصد اور پنجاب میں جی ایس ٹی 16 فیصد ہے۔ چاروں صوبوں میں ٹیلی کام سروسز پر سیلز ٹیکس 19.5 فیصد ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ موبائل صارفین پر 12 اعشاریہ5 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس کو کم کر کے 10 فیصد اور آئندہ سال اسے8 فیصد پر لایا جائے گا۔ جبکہ آئندہ سال فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح 17 فیصد سے کم کر کے 16 فیصد کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اب تک آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر میں 48 فیصد ترقی کی ہے ، پاکستان 10 سالوں میں اس سے بھی زیادہ ترقی کرسکتا ہے۔ 2001 میں بھارت کو آئی ٹی سیکٹر سے ایک ارب ڈالر کی برآمدات ملی جو 2010 تک بڑھ کر 100 بلین ڈالر ہو گئیں۔ پاکستان نے 10 سالوں میں کم از کم 40 فیصد ترقی کی ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ اس ریلیف پیکج آئی ٹی سیکٹر کی نہ صرف برآمدات بڑھیں گی بلکہ اس سے نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >