جبری ویکسینیشن کا منصوبہ زیر غور نہیں،وزارت صحت کی تردید

کسی کو بھی جبری ویکسین نہیں لگائی جائے گی،ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارت صحت جبری ویکسینیشن کے حوالے سے افواہوں کی تردید کردی،وزارت صحت کے مطابق کسی بھی ایسے منصوبے پر غور نہیں کیا جارہا جس میں زبردستی ویکسین لگائی جائے گی۔

میڈیا اور سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت ویکسینیشن کا عمل تیز کرنے کے طریقوں پر غور کررہی ہے،ساتھ ہی افواہیں سرگرم تھیں کہ حکومت ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا سوچ رہی ہے جو ویکسین لگوانے سے انکاری ہیں، سمز بلاک کرنا، انہیں ریسٹورنٹس اور سرکاری دفاتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی،

وزارت صحت کے ترجمان ساجد شاہ نے ڈان سے گفتگو میں اس طرح کی تجویز کی تردید کردی کہا کسی بھی طرح جبری ویکسینیشن نہیں ہوگی لیکن ہم صحت عامہ کی حفاظت کے لیے کچھ پابندیاں لگائیں گے۔

دوسری جانب حکومت سندھ نے اعلان کیا کہ جو ملازمین ویکسین نہیں لگوائیں انہیں جولائی کی تنخواہ نہیں دی جائے گی،پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے سرکلر میں کہا گیا کہ کووڈ رسک الاؤنس ان ملازمین کو نہیں دیا جائے گا جن کے پاس ویکسینیشن کارڈ نہیں ہوگا،اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے عملے کو بھی بتادیا گیا کہ ویکسینیشن کے بغیر انہیں اداروں میں آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ملک میں یومیہ 3 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی جارہی ہے، جس کے باعث کورونا پر قابو پانا آسان ہوگیا ہے،نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کووڈ مریضوں کے لیے مختص 70 فیصد وینٹیلیٹرز اور آکسیجنیٹڈ بستر خالی ہیں،اسلام آباد میں 79 فیصد، بہاولپور میں 74 فیصد اور لاہور میں 73 فیصد وینٹیلیٹرز خالی تھے، 72 فیصد آکسیجن کی سہولت والے بستر پشاور میں تقریباً 70 فیصد کراچی، ملتان اور ایبٹ آباد میں خالی تھے۔

کورونا کی تیسری لہرکے دوران مثبت کیسزمیں کمی کا رجحان جاری ہے،گزشتہ روزمثبت کیسزکی شرح تین اعشاریہ اکیس فیصد ریکارڈ کی گئی،مزید سینتالیس افراد جاں بحق ہوگئے،اموات اکیس ہزارپانچ سوچھہتر تک پہنچ گئیں،چوبیس گھنٹے کے دوران چالیس ہزارچارسو تراسی ٹیسٹ کئے گئے،ایک ہزارتین سوتین افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

  • Wrong. In Port Qasim, almost every other industry is forcing it’s employees to have vaccine, since there is an SRO by govt which imposes this law and state that , if employee is not in compliance, then stop their salaries.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >