آپ چینل کو سبسکرائب کرنے کا کیوں نہیں کہتے، رؤف کلاسرا کی بیٹے کے ساتھ لڑائی

آپ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کا کیوں نہیں کہتے، رؤف کلاسرا کی بیٹے کے ساتھ لڑائی

سینئر صحافی و تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے  کہا ہے کہ  میری ویڈیو ز کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر مجھ سے اس بات پر اکثر جھگڑتے ہیں کہ میں مسلسل ویڈیوز کیوں نہیں بناتا۔

اپنی ایک تازہ ترین ویڈیو میں رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ  کافی عرصے بعد آپ سے ملاقات ہورہی ہے میری ویڈیوز میں اب کافی گیپ آنا شروع ہوگیا ہے جس سے متعلق اکثر لوگ  سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور دیگر ذرائع سے سوال  بھی پوچھتے ہیں کہ میں روزانہ کی بنیاد پر ویڈیوز کیوں نہیں بناتا ۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ کچھ لوگ عادت کے ہاتھوں مجبور ہوکر روزانہ کی بنیاد پر وہ سب دیکھنا چاہتے ہیں جو انہیں پسند ہوتا ہے مگر میں ایک مختلف نظریے کا حامل انسان ہوں اور میں سوچتا ہوں کہ کوئی معاملہ ہو تو ویڈیو بنائی جائے بلاوجہ روزانہ” پانی میں مدھانی” ڈالنے کا کیا مقصد۔

انہوں نے کہا کہ میری یوٹیوب ویڈیوز کو پروڈیوس کرنے والا میرا اپنا بیٹا اس معاملے میں مجھ سے اکثر الجھتا ہے کہ یہ  یوٹیوب ایک مختلف میڈیم ہے یہاں مسلسل ویڈیوز ڈالنے والا چینل ہی چلتا ہے، اگر ویڈیوز میں گیپ آنا شروع ہوجائے تو ٹریفک متاثر ہوجاتی ہے۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ میرا بیٹا  دوسری جس بات پر مجھ سے ناراض ہے اور جس پر ہم باپ بیٹے کی دو ڈھائی سال سے لڑائی بھی چل رہی ہے وہ یہ ہے کہ میں اپنی ویڈیوز میں لوگوں کو چینل سبسکرائب کرنے کا کیوں نہیں کہتا، وہ  اپنے اس مطالبے کے حق میں  کروڑوں سبسکرائبرز رکھنے والے چینلز کی ویڈیوز دکھاتا ہے جس میں وہ چینل کو سبسکرائب کرنے کی ترغیب دیتے دکھائی دیتے ہیں۔

رؤف کلاسر ا نے کہا کہ باپ بیٹے کی لڑائی جاری ہے اور آج اس نے مجھے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ آپ چینل کو تباہ کررہے ہیں روزانہ ویڈیوز نہ کرکے، میرے چینل کے ڈائریکٹر  کی شکایات کی فہرست بھی میرے بیٹے  کی طرح طویل ہی ہے۔

  • معزرت کے ساتھ بیٹا آپ کے ابا جی ایک خود پسند متکبر شخص ہیں روف کلاسرا کی بات کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیے کیوں کہ خود پسند شخص کبھی اپنے ارد گرد سے باہر نہیں نکل سکتا اس کو ہمیشہ اپنی برادری اپنا علاقہ اپنی اقرباپروری میری سوچ میں کیا چاہتا ہوں ہم نے کیا کہہ دیا ہم تو کمال کے لوگ ہیں کی پڑی رہتی ہے جس میں یہ شخص بڑی طرح مبتلا نظر آتا ہے ویسے بھی اس کو کسی درویش کی بدعا ہے کہ نا تمہیں سیدھی بات سمجھ آئے نہ تم سیدھی بات کر سکو ہمیشہ کسی بھٹکی روح کی طرح بھٹکتے رہو لیکن تم اپنے آ پ کو شاہین سمجھو اقبال کا نہیں لیہ مظفر گڑھ کا ان کی مشہور بات ہم نے بھی تو اپنا منجن بیچنا ہے لہذا بات وکھی سے نکال کر کرنی پڑتی ہے اس میں سمجھدار کے لیے اشارہ کافی ہیں کہ یہ تو منجن فروش گھٹیا سوچ کا مالک ہے شاید کبھی یہ کسی دانشور کی مثال دے زیادہ تو اس کے حوالے یہ انڈیا کی فلم یا کسی تھرے باز کے ہوں گیں اس زیادہ اس کی سوچ نہیں یہ ڈرامے باز کسی مداری کی طرح بات سناتا ہے اورمجمع مٹھی میں لینے کے لیے جو مرضی اول فول بکتا چلا جاتا ہے جہاز یوسف رضا گیلانی نے استعمال کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ادھر پی ڈی ایم یہ دعوی کر رہی تھی یہ سب ہم نے کیا اور ادھر اس نے اور ہی داستان گو کی طرح ایک نئی آسمان کی بلندیوں کو چھوتی جہاز بھری کہانی سنا دی اس کی ساری زندگی گیلانیوں کی جوتیوں میں گزری کون نہیں جانتا ایک دفعہ الیکشن کی لائیو ٹرانسمیشن میں عارف نظامی نے اسے کہا کہ تمھارے یوسف رضا گیلانی کے ساتھ تعلقات پر راز کھلوں تو اسے دندل پر گئی این بایں شائیں کرنے لگا

  • So what is their contribution to the country? Country is morally worse than 20 years before this media so called freedom.
    They just worried about salaries and kept hoping here and there.

  • 11 journalists given out of turn plots, NA told
    ISLAMABAD: Finally the government has made public the list of eleven handpicked journalists who have been allotted expensive plots in the federal capital, raising the eyebrows of many in media because these journalists were either far below in the waiting list for plot aspirants compiled by the Information Ministry or were not listed among the capital journalists.
    Ms Shaheen Ishfaq, an MNA from PML-N posed a question to the Minister for Housing and Works in the National Assembly and the ministry furnished the list of the journalists who were allotted plots in the posh sectors of the federal capital. During the National Assembly question hour the PML-N MNA asked, “Will the Minister for Housing and Works be pleased to state: a) The names of those journalists who have been allotted plots the Pakistan Housing Authority (PHA) and the Federal Government Employees Housing Foundation (FGEHF) since March 2008 till date along with the size of those plots; b) The procedure of payments adopted in those allotments; and c) Whether there is any proposal to allot plots to journalists in near future. If so, the details thereof?
    The reply of Federal Minister for Housing and Works Rehmatullah Kakar shows the name of many junior journalists who have been rewarded by the PPP government and even those who were not listed among the capital journalists when the Information Ministry compiled a waiting list of journalist to be awarded plots when CDA would start new sectors. The reply says: “In total 11 journalists have been allotted plots since March 2008 by FGEHF. The names of journalists along with details of their plots are mentioned below:
    Nazir Naji, (500 sq yards, plot number 16, street 64-B, G-14/2; provisional letter issued on 13/04/2009); Muhammad Rauf Klasra (500 sq yards, plot number 6, street No. 71, G-14/2; provisional letter issued on 29-01-2009); Malik Muhammad Malick (500sq yard, plot No. 117, Street No. 801, G-14/3, provisional letter issued on 07/04/2009);

    Muhammad Shoaib Bhutta (500sq yard, plot No. 64-B, G-14/2, provisional letter issued on 23-04-2009); Aamir Mateen (500sq yards, plot No. 47, Street No. 118, G-14/3; provisional letter issued on 13-04/2009); Muhammad Sajjad Khan Tareen (500sq yard, plot No 15, G-14/2 provisional letter issued on 20/10/2009); Javed Chaudhry (356sq yards, plot No. 2, Street No. 79, G-14/2; provisional letters issued 13/04/2009); Khaliq Ahmad Khan Kiani (356sq yards, plot No. 69, Street No. 116, G-14/3; provisional letter issued on 13/04/2009); Majeed Afzal Khan alias Sajan Khan (356sq yards, plot No. 32, Street No. 115, G-14/3; provisional letter issued on 30-04-2009); Muhammad Ashraf (356sq yards, plot No. 9, Street No. 93, G-14/3; provisional letter issued on 30-05-2009) and Muhammad Ishaque Chaudhry (356sq yards, plot No. 2, Street No. 77, G-14/2; provisional letter issued on 05-06-2009).
    With the provisional offer allotment letters, schedule for payment is sent to the allottees. Option is given to the allottee to make payment as lump sum or in installments. Yes, quota to the journalists in the next coming scheme is allocated. However, media workers will also be considered along with the journalists,” the reply mentioned.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >