وزیر خزانہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس،فون کال اور انٹرنیٹ ٹیکس سے متعلق وضاحت

وزیر خزانہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس،فون کال اور انٹرنیٹ ٹیکس سے متعلق وضاحت

جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا تیسرا بجٹ پیش کیا جس میں بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ تین منٹ ‏سے زیادہ موبائل فون کال اور انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال پر ‏ایف ای ڈی کی تجویز ہے۔ تین منٹ سے زائد کال اور انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ ایس ایم ایس پیغامات پر بھی ایف ای ڈی عائد ‏کردیا ‏گیا ہے۔

حکومتی اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے موبائل سروسز کی صورت میں اضافی ٹیکسوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ‏فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی بجٹ میں انٹرنیٹ ڈیٹا پر فی جی بی پانچ روپے ٹیکس لگانے کی تجویز مسترد کردی۔

ہفتے کے روز پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ کابینہ نے تینوں مصنوعات پر ٹیکس کی منظوری نہیں دی۔ گزشتہ روز 3 منٹ سے زیادہ کی موبائل کال پر ایک روپے ٹیکس کا اعلان کیا گیا تھا۔ ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر بھی اضافی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔

وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ حکومت منی بجٹ نہیں لائے گی۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ان کا حق ہے اور مہنگائی کے مقابلے میں تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہیے۔ عالمی مالیاتی فنڈز چاہتا ہے کہ پاکستان مستحکم گروتھ کی طرف جائے اس لئے آئی ایم ایف سے ہم نہیں نکل رہے ہیں اور ان سے بات چیت ابھی جاری ہے۔

شوکت ترین نے واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو سگریٹ انڈسٹری پرٹیکس بڑھائیں گے اور تمباکو سمیت 4 سیکٹرزمیں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لارہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ انعامی اسکیم کی مالیت ایک ارب روپے تک لے جائیں گےاورٹيکس دينے والوں کو مزيد سہوليات دينگے۔ برآمدات سے جی ڈی پی تناسب موجودہ 8 پرکیپٹا سے 20 فیصد تک لے کر محصول وصول کرنے میں اضافے پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں سات سے آٹھ سال کی مدت میں ٹیکس سے جی ڈی پی کی شرح میں 20 فیصد اضافہ کرنا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ اگلے مالی سال کے لئے ٹیکس وصولی کا ہدف 5.8 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے ، جس کی انہیں امید ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت جدید نقطہ نظر سے حاصل کر لیا جائے گا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >