بجٹ میں کتنے نئے ٹیکسز لگے؟اپوزیشن ایک پیج پر نہ آسکی،متضاد بیانات کا سلسلہ جاری

 بجٹ میں کتنے نئے ٹیکسز لگے؟اپوزیشن ایک پیج پر نہ آسکی،متضاد بیانات کا سلسلہ جاری

حکومت کی جانب سے پیش کردہ نئے مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے اپوزیشن رہنما اپنی اپنی تنقید میں ایک  سے بڑھ کر ایک متضاد بیان دے رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن کے سینئر رہنما یہاں تک کے پارٹی سربراہان بھی جو بیان دے رہے ہیں وہ دیگر پارٹی رہنماؤں یا اپوزیشن رہنماؤں سے مختلف ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اپوزیشن بغیر تحقیق اور بجٹ کو پڑھے ہی حکومت پر تنقید برائے تنقید کررہی ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے نئے بجٹ میں عوام پر تقریبا پونے 4 سو ارب روپے سے زائد کے ٹیکسز عائد کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عام آدمی کے استعمال کی کوئی چیز نہیں چھوڑی جس پر ٹیکس عائد نہ کیے گئے ہوں۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایک ذمہ دار سیاست دان سمجھے جاتے ہیں مگر انہوں نے بھی بجٹ پر تنقید میں وہ اعدادوشمار پیش کیے جو حکومت کے پیش کردہ بجٹ سے تو کیا کسی اپوزیشن رہنما کے بیان سے بھی نہیں ملتے تھے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں 12سو ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے تاہم اس کے باوجود حکومت 8سو ارب کی اضافی رقم حاصل کرسکی، بجٹ کی بنیاد صرف جھوٹ پر رکھی گئی۔

پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بھی تنقید کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور کہا کہ حکومت کو پتا ہی نہیں ہے ٹیکس کلیکشن کیسے کرنی ہے، یہ کاپی پیسٹ کیا ہوا بجٹ ہے، حکومتی دعویٰ ہے کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا سچ یہ ہے کہ حکومت نے 27 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے ہیں۔

اپوزیشن رہنماؤں کے ان متضاد بیانات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کے بیانات عوامی جذبات کی عکاسی نہیں بلکہ تنقید برائے تنقید ہے، حکومت نے نئے بجٹ میں عوام پر کتنے ٹیکس عائد کیے یہ ساری تفصیلات خبروں میں موجود ہیں مگر اس کے باوجود اپوزیشن رہنما متضاد اعدادوشمار پیش کرکے مزید کنفیوژن پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >