کراچی میں میری زمینوں پر بھی قبضہ کیا گیا ہے،شرمیلا فارقی

 کراچی میں میری زمینوں پر بھی قبضہ کیا گیا ہے،شرمیلا فارقی

پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما اور رکن سندھ اسمبلی شرمیلا فاروقی نے کراچی میں اپنی ذاتی زمینوں پر قبضہ ہوجانے کا دعوی کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق رکن سندھ اسمبلی شرمیلا فاروقی نے حال ہی میں نجی چینل کے پروگرام میں شرکت کی جہاں انہوں نے  انکشاف کیا کہ کراچی میں ان کی زمنیوں پر قبضہ کیا گیا ہے اور قابضین سے زمینیں چھڑانا ان کے لئے ممکن نہیں۔

شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ کراچی میں طویل عرصے تک ایم کیو ایم کا راج رہا ہے اور اسی دوران شہر میں شادی ہالز اور پارکوں پر قبضہ کیا گیا تھا۔ جب انتظامیہ کی جانب سے کوئی جگہ خالی کرانے جاتا تو بچے اور خواتین سڑکوں پر آجاتے ہیں کہ ہمیں بے گھر کردیا۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے دس دفعہ سوچتے ہیں کیونکہ لوگوں کو متبادل جگہ فراہم کرنا آسان کام نہیں اور اس قسم کے مسائل ہر بڑے شہر میں پیش آتے ہیں۔

شرمیلا فارقی کا مزید کہنا تھا کہ ہم وفاق اور سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ بیٹھتے تھے مگر ہم نے اس وقت بھی بہت ساری زمینیں قبضہ مافیا سے بازیاب کرالی تھیں۔

شرمیلا فارقی نے وفاق سے گرین لائن اور کے فور منصوبے کو مکمل کرے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے سابقہ دور حکومت میں شروع کیے گئے تھے اور انہیں مکمل کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے۔

رکن سندھ اسمبلی نے وفاقی بجٹ سے متعلق غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی بجٹ میں سندھ کے لیے صرف 2 منصوبے رکھے گئے ہیں مگر پنجاب کے لیے 22، خیبرپختونخوا کے لیے 21 اور بلوچستان کے لیے 15 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب، رہنما پیپلز پارٹی کی بات پر رہنما تحریک انصاف فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ سندھ کو وفاق سے پیسے این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے کے تحت ملتے ہیں جس میں وفاق کے ٹوٹل ٹیکس کا 14 اعشاریہ 4 فیصد حصہ ہوتا ہے اور اس رقم کو کوئی روک نہیں سکتا۔

فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک مہینے میں 2 مرتبہ سندھ کو فنڈز ٹرانسفر کرتا ہے جسے وفاق روکنے کا مجاز نہیں۔

رہنما تحریک انصاف کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کراچی میں گرین لائن منصوبہ اور کےفور پراجیکٹ بنارہے ہیں اس پر انہیں اعتراض ہے کیا، سندھ کی مختص رقم کو کوئی نہیں روک سکتا تاہم اس کے علاوہ اگر وفاقی حکومت کوئی ترقیاتی کام کرنا چاہے تو اس کے لیے سندھ حکومت سے پوچھنے کی مجاز نہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >