پیپلز پارٹی دور میں آئی ایم ایف نے اچھا پیکج دیا تھا اس بار کڑوی گولی کھانا پڑی،وزیرخزانہ

پیپلز پارٹی دور میں آئی ایم ایف نے اچھا پیکج دیا تھا اس بار کڑوی گولی کھانا پڑی،وزیرخزانہ

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اچھا پیکج دیا تھا جبکہ اس بار حکومت کو آئی ایم ایف کی جانب سے ملی کڑوی گولی کھانا پڑی۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر شوکت ترین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تو ملک کی معاشی گروتھ کے باوجود مسائل بہت زیادہ تھے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 19 سے 20 ارب ڈالر تھا، مجموعی مالی خلا 28 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔

انہوں نے آئی ایم ایف کی جانب سے دیئے گئے پیکج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈالرختم ہونے کی وجہ سے حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا لیکن اس بار آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ فرینڈلی نہیں تھا، پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آئی ایم ایف نے اچھا پیکج دیا تھا لیکن اس بار حکومت کو آئی ایم ایف کی کڑوی گولی کھانا پڑی۔

آئی ایم ایف کے مطالبات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھاکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے شرح سود 13.25 فیصد تک لے جانے کا مطالبہ کیا جس کے بعد ایک سال میں قرضوں کی لاگت 1400 ارب روپے بڑھ گئی جبکہ شرح تبادلہ بھی 168 تک چلاگیا۔ غیرملکی قرضہ کی لاگت بڑھ گئی، بجلی اور گیس کے ٹیرف بھی بڑھا دیے گئے، اس سے مہنگائی بڑھی اور انڈسٹری پر بھی منفی اثر پڑا، اس سے معیشت سست روی کا شکار ہوگئی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکس نادہندگان کی گرفتاری کا فیصلہ وزیر خزانہ کی سطح پر ہوگا۔ انہوں نے ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے لوگوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوگا جو ٹیکس نہیں دیں گے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

شوکت ترین نے ایف بی آر کی گرفتاری شق میں تبدیلی کے بارے میں بھی بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی طرف سے دھمکائے جانے کے اختیارات کی شق ختم کردیں گے جبکہ گرفتاری کی شق کو تبدیل کرنے کے لئے وزیر قانون کو مطلع کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے بیل آؤٹ پیکج کے تحت 50 کروڑ ڈالر کی قسط ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>