عمران خان کی حکومت میں پاکستان میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا،برطانوی ماہرین

کچھ روز قبل نیویارک ٹائمز نے اپنی سٹوری میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے چیف ولیم برنس نے پاکستان کا خفیہ دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات سے متعلق امریکی اخبارکا کہنا تھا کہ اس میں سی آئی اے کے سربراہ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی کوشش کی تھی مگر انہیں جواب میں انکار ہی ملا اور واضح پیغام دیا گیا کہ اگر اب کوئی بات ہو گی تو صرف امریکی صدر کے ساتھ ہو گی کسی دوسرے امریکی عہدیدار کے ساتھ ملاقات نہیں ہو سکتی اور دوسرے نمبر پر پاکستانی حکومت نے امریکا کو ڈرون حملوں کیلئے کوئی بھی ایئر بیس دینے سے انکار کر دیا تھا۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی خود واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان نے امریکا کا ایسا ہر مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا ہمیشہ سے ہی ان ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری رہا ہے، اس نے پہلی بار 2015 میں ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جب اس میں اطالوی شہری مارا گیا تھا جسے کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں نے اغوا کر رکھا تھا۔

2004 سے2008 تک جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں 13 ڈرون حملے ہوئے، 2008 سے 2013 تک پیپلزپارٹی کے دور میں 340 ڈرون حملے ہوئے جبکہ 2013 سے 2018 تک مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران پاکستان میں امریکا نے 61 ڈرون حملے کیے۔ مگر 2018 سے لیکر آج تک پاکستان میں امریکا کوئی ڈرون حملہ نہیں کر سکا، اس کی وجہ موجودہ حکومت کی پاکستانی سالمیت پر سمجھوتہ نہ کرنے وہ قسم ہے جس کے تحت وزیراعظم عمران خان حکومت میں آنے سے پہلے بھی ریلیاں نکال چکے ہیں اور ہمیشہ پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔

ترک خبر رساں ادارے ٹی آرٹی کے ایک آرٹیکل میں اس حوالے سے تفصیلات شیئر کی گئی ہیں کہ جب سی آئی اے کے سربراہ نے پاکستان کا خفیہ دورہ کیا تو تبھی پاک فضائیہ کی جانب سے بلوچستان کے علاقے نصیرآباد میں ایئربیس کے لیے جگہ تلاش کی جا رہی تھی مگر ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق نئے ایئر بیس بنانے کے لیے پاک فضائیہ کا اس طرح جگہ تلاش کرنا ایک معمول کی بات ہے۔

یاد رہے کہ نصیر آباد شمسی ایئربیس سے زیادہ دور نہیں یہ وہی ایئر بیس ہے جہاں سے 2011 تک امریکی ڈرونز کی مدد سے کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ نصیرآباد بلوچستان کے مغربی حصے میں واقع ہے اسے عراق اور افغانستان کا بارڈر لگتا ہے۔ ترک خبر رساں ادارے کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ یہاں ایئربیس بنانے کا مقصد شاید امریکا کو ڈرون حملوں سے کارروائیاں جاری رکھنے میں مدد دینا ہے۔ تاکہ امریکا داعش اور القاعدہ کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکے۔

ٹی آرٹی نے کابینہ میں شامل ایک وزیر کا حوالہ دیا ہے کہ جب تک عمران خان حکومت میں ہیں تب تک وہ امریکا کو کسی ڈرون حملے کےلیے پاکستانی ایئربیس استعمال کی اجازت نہیں دے سکتے۔

امریکا افغانستان سے انخلا کے بعد اس کوشش میں ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ کسی قریبی ملک میں ایسا فضائی اڈہ تلاش کر لے جہاں سے وہ افغانستان میں موجود اپنے ممکنہ اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا سکے۔ بہت سے ماہرین کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ ڈرون حملوں کیلئے امریکا کا ساتھ دیا جس کی بعدازاں بھاری سیاسی قیمت چکانا پڑی ہے۔

تاہم اب امریکی صدر جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر نے ایک پریس بریفنگ کے دوران تسلیم کیا ہے کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ سی آئی اے کو ڈرون حملوں کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ مل جائے۔

یہ بات قبل ستائش ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے حکومت سنبھالنے کے بعد اب تک پاکستان میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا اس کی وجہ ان کا اس حوالے سے سخت مؤقف ہے جس میں مستقبل قریب میں بھی کوئی لچک نظر نہیں آتی۔

ملکی سالمیت کا سودا کرنے والی ماضی کی حکومتوں کے ان کمزور فیصلوں کے نتیجے میں 2004 سے 2018 کے دوران امریکا نے پاکستان میں 400 سے زائد ڈرون حملے کیے جن میں 424 سے 969 کے درمیان لوگ مارے گئے ان مرنے والوں میں 172 بچے بھی شامل تھے۔

نان پرافٹ ٹرانسپرنسی آرگنائزیشن ایئروارز کے بانی اور ڈائریکٹر کرس ووڈز کے مطابق جولائی 2018 میں جب پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن جیتا وہ آخری وقت تھا جب سی آئی اے نے پاکستان کی سرزمین پر کوئی آپریشن کیا۔ ٹی آر ٹی نے کرس ووڈز کے حوالے سے مزید لکھا کہ انہوں نے کہا عمران خان پہلے بھی حکومتوں کو اس حوالے سے تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں اور وہ اپنی بات کے کھرے اس طرح ثابت ہوئے ہیں کہ انہوں نے حکومت میں آنے کے بعد پاکستان پر کوئی ڈرون حملہ نہیں ہونے دیا۔

  • نواز چور اور زرداری ڈاکو
    کہتے تھے ہمارے ببلو ڈبلو اور بلو کھسرے کو نہ مارنا
    باقی ساری قوم کو مارو ہم شور مچاتے رہیں گے تم مارتے رہنا
    اب بندا ان کو ووٹ دینے والوں پر لعنت نہ بھیجے تو کیا بھیجے-

  • اللہ تعالیٰ عمران کی حفاظت فرمائے۔۔۔ کیونکہ عمران کی باہر کوئی کمزوری نہیں ہے جس پہ امریکہ عمران کو بلیک میل کر سکے۔۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >