سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ تاخیری ادائیگی پر تیل کی فراہمی کا معاہدہ

سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ تاخیری ادائیگی پر سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کے تیل کی فراہمی کا معاہدہ

ایران کا اثر و رسوخ کم کرنے کے لیے سعودی عرب پاکستان کے ساتھ تاخیری ادائیگی پر تیل کا معاہدہ کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کی تیل کی امداد دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اس ڈیل کے تحت سعودی عرب پاکستان کو سالانہ کم از کم ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کا تیل فراہم کرتا ہے۔ رواں سال یہ کھیپ جولائی میں دی جائے گی۔ وزیر توانائی حماد اظہر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو اینڈ فنانس ڈاکٹر وقار مسعود نے بتایا کہ تاخیری ادائیگیوں پر سعودی عرب سے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کے تیل کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے تیل کی سہولت کی تفصیلات اور 3 سال قبل طے پانے والے 3 ارب ڈالر کے سمجھوتے میں کمی کی وجوہات کے حوالے سے مزید بات نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال جب پاکستان کی طرف سے سعودی عرب پر دباﺅ ڈالا گیا تھا کہ وہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے پر بھارت کی مذمت کرے تو اس پریشر کو ختم کرنے کے لیے سعودی عرب نے قرض کے تین ارب ڈالر فوری طور پر واپس مانگ لیے تھے۔

گزشتہ سال سے پاک سعودی تعلقات میں کچھ سرد مہری آئی تھی جو مئی میں وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات کے بعد ختم ہو گئی اور دونوں ملکوں کے تعلقات بحال ہو گئے۔ اس حوالے سے معاون خصوصی نے بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات بحال ہو چکے ہیں اور اب سعودی عرب ایک بار پھر ہمیں تیل کی فراہمی شروع کرنے جا رہا ہے۔ یہ تیل تاخیری ادائیگی پر پاکستان کو مہیا کیاجائے گا۔

معاون خصوصی ڈاکٹر وقار مسعود کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران 6 کھرب 10 ارب روپے پٹرولیم لیوی اکٹھا کرنے کے حوالے سے حقیقت پسندانہ تخمینہ لگایا ہے اس کے باوجود ناقدین اسے غیر حقیقت پسندانہ کہہ رہے ہیں کہ لیوی کو 4 سے 5 روپے بڑھا کر 25 روپے لیٹر کردیا جائے گا۔ حکومت نے 4 ماہ تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رکھیں حالانکہ بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے پابندی ختم ہونے سے تیل کی پیداوار بڑھنے میں مدد ملے گی جس کا قیمتوں پر مثبت اثر پڑے گا۔ 25 دیگر مدات بھی ہیں جنہیں آئندہ مالی سال کا بجٹ بناتے ہوئے مدِ نظر نہیں رکھا گیا۔ ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کی نجکاری کا ہدف بنایا تھا لیکن بہت سی ٹرانزیکشن اس مالی سال میں مکمل ہوں گی جس میں ففتھ جنریشن ٹیلی کمیونکیشن لائسنسز اور لائسنسز کی تجدید شامل ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>