حکومت نئی آٹو پالیسی میں گاڑیوں کیلئے شرح سود کم کر رہی ہے؟

11جون کو پیش کیے گئے وفاقی حکومت کے بجٹ 22-2021 میں حکومت نے پہلی بار گاڑیاں سستی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے 850 سی سی تک کی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم جبکہ سیلز ٹیکس کو 17 فیصد سے کم کر کے 12 اعشاریہ 5 فیصد کر دیا ہے۔ اب حکومت کاروں کیلئے دی گئی اس ٹیکس چھوٹ کو 1000 سی سی تک بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔

جمعہ کے روز وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار خسروبختیار نے نئی آٹو پالیسی 26-2021 پر بریفنگ دی ان کے علاوہ معاون خصوصی ڈاکٹر وقار مسعود نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی جس میں نئی آٹو پالیسی کا حتمی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیر صںعت و پیداوار نے بتایا کہ اس نئی آٹو پالیسی کو لانے کا مقصد 850 سی سی سے ہزار سی سی والی گاڑیوں کو عوام کی پہنچ میں لانا ہے۔ تاکہ ملک میں تیار ہونے والی گاڑیوں کی لوکلائزیشن بڑھ سکے۔ 2 اور 3 وہیلرز کے پرزہ جات کی برآمد کو بڑھانا، لوکل مارکیٹ میں مقابلے بازی کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد پاکستانی عوام کو ارزاں نرخوں پر بہترین ٹیکنالوجی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار کے ایک عہدیدار کے مطابق حکومت کے اس فیصلے سے کارساز کمپنیاں 850 سی سی والی گاڑیوں کی قابلیت کو 1000 سی سی تک بڑھانے کا سوچ رہی ہیں اگر ایسا ہوتا ہے تو یقیناً اس کا فائدہ عوام اور خریداروں کو ہی ہو گا۔

تاہم حکومت کو 1000 سی سی تک کی گاڑیوں پر دینے والے ٹیکس ریلیف پر ایک بار نظرثانی کرنے چاہیے کیونکہ اس سے آٹو مینوفیکچررز کو مارکیٹ میں نئی گاڑیاں لانچ کرنے میں مدد ملے گی۔

وزارت صنعت و پیداوار کے عہدیدار کے مطابق حکومت 850 سی سی تک کی گاڑیوں کے خریداروں کیلئے شرح سود کم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے اور حکومت 1000 سی سی والی گاڑیوں کیلئے بھی اس سہولت میں توسیع کرنا چاہتی ہے جس کے تحت 850 سی سی والی گاڑیوں پر یہ شرح 5 فیصد جبکہ اس سے بڑی گاڑیوں پر اس شرح کو 6 فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔

اب اس نئی آٹو پالیسی کے نافذالعمل ہونے سے دیکھنا یہ ہے کہ درحقیقت کونسی گاڑیوں پر کتنی ٹیکس چھوٹ دی جا رہی ہے اور اس میں عوام کو کتنا کتنا ریلیف مل سکتا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>