لاہور میں کوتوالی طرز کی پولیس کو دیکھ کر شہری خوشگوار حیرت میں مبتلا

لاہور میں کوتوالی طرز کی پولیس کو دیکھ کر شہری خوشگوار حیرت میں مبتلا

اندرون لاہور کے وہ علاقے جو والڈ سٹی اتھارٹی کے زیر انتظام ہیں یہاں سڑکوں پر پرانے وقتوں کے کوتوالوں سے مشابہت رکھنے والے محافظوں کو گشت کرتا دیکھ کر شہری خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ان محافظوں کی انگریز دور کے کوتوالیوں سے مشابہت کو یقینی بنایا گیا ہے۔

لاہور میں کوتوالی طرز کی پولیس کو دیکھ کر شہری خوشگوار حیرت میں مبتلا

کوتوالی محافظوں کی وردی میں خاکی رنگ کی اونچے شملے والی پگڑی، گٹھنوں تک اونچی پتلون، ہاتھ میں ڈنڈا اور بیلٹ کے ساتھ لٹکتی پانی کی بوتل شامل ہے۔ والڈ سٹی اتھارٹی کے مطابق اس طرح کوتوالیوں کی واپسی کا مقصد لاہور شہر کی قدیم روایت اور ثقافت کو فروغ دینا ہے تاکہ باہر سے آنے والے لوگ یہاں کی گم شدہ روایات اور ثقافت کو دیکھ سکیں۔

اس حوالے سے والڈ سٹی اتھارٹی نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے تصاویر جاری کیں اور کیپشن میں لکھا کہ اندرون لاہور میں کوتوال کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے یہ اقدام کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس عمل کو بہت سراہا جا رہا ہے اور اتھارٹی کی جانب سے کیے گئے اس اقدام پر تعریفیں کی جا رہی ہیں۔ شہری ان محافظوں کے ساتھ تصاویر بنواتے ہیں اور بخوشی بڑھ کر ہاتھ ملاتے ہیں۔
ادیتی نامی صارف نے کہا کہ وہ یہاں جانا اور دیکھنا چاہتی ہیں۔

زویلا نے کہا اس عمل کو سراہتے ہوئے سوال کیا کہ ان محافظوں کا کیا کام ہوا کرے گا؟

ابونورالدین نے کہا کہ ان کی پگڑی کمال کی لگ رہی ہے مگر یہ وردی تھوڑی پرانی طرز کی ہے ان کے پاس ڈنڈے کی بجائے کوئی بندوق ہونی چاہیے تھی۔

سارہ نے کہا کہ ہمیں حکومت کے ان اقدامات کی تعریف کرنی چاہیے جن میں وہ پرانی ثقافت کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جن میں ان بازاروں کی بحالی کا کام بھی شامل ہے۔

لاہور میں کوتوالی طرز کی پولیس کو دیکھ کر شہری خوشگوار حیرت میں مبتلا

لاہور میں کوتوالی طرز کی پولیس کو دیکھ کر شہری خوشگوار حیرت میں مبتلا

مگر دوسری جانب کچھ لوگ اس اقدام پر تنقید بھی کرتے نظر آ رہے ہیں ان کاکہنا ہے کہ یہ دور غلامی کی یاد ہے جب یہاں انگریز ہوا کرتے تھے اور کوتوالی انگریز قوانین کے تحت یہاں ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑا کرتے تھے۔

ظفر حسین کا خیال تھا کہ خدا کا خوف کرو یار، زندہ بھی کیا تو کیا؟ برطانوی دور کی کوتوالی وردی جو ظلم، بربریت اورعوام دشمنی کی علامت ہے۔ یہ احمدکھرل، نظام لوہاراور بھگت سنگھ کےقاتلوں کی وردی پنجابیوں کو دوبارہ کیوں دکھا رہے ہو؟ لاہورکی تاریخ سے کوئی اچھا حوالہ نہیں ملا؟ لگتا ہےاس اتھارٹی پر کوئی پی ایس پی افسر بیٹھا ہے۔

سید شمس الحسن نے کہا کہ ابھی تک برطانوی راج کے وفادار موجود ہیں۔ کتنے شرم کی بات ہے کہ ہمارے پاس اس دور کی ثقافت میں سے کئی چیزیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقبال کے خودی کے پیغام کو بھول بیٹھے ہیں اور انگریز دور کی غلامی اپنائے ہوئے ہیں۔

اویس نے کہا کہ انگریز چلے گئے مگر ان کی باقیات یہاں ہیں۔ دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور ہم بڑے فخر کے ساتھ پیچھے جا رہے ہیں۔

راشد قطب نے کہا کہ جو ایک بار غلام بن جائے ہمیشہ غلام ہی رہتا ہے۔ کوتوال کلچر کو دوبارہ سامنے لانے کا مطلب ہے کہ بطور قوم ہماری کوئی عزت نہیں۔ ہم خود کو برطانوی سامراج کا غلام ہی سمجھتے ہیں۔

علی نواز نے کہا کہ ہمیں کالونیل دور کی یادیں تازہ کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی ہے جبکہ اب ہم آزاد پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ کیا یہ ہمارا کلچر تھا؟ اس کا جواب نہیں ہے۔ لوگوں کو اس دور میں واپس مت دھکیلا جائے خاص کر ان کو جنہوں نے اس دور میں اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>