تحریک انصاف کی خواتین کا وزیراعظم کے عورتوں کے لباس سے متعلق بیان کا دفاع

پاکستان تحریک انصاف کی خواتین اراکین نے وزیراعظم کی جانب سے عورتوں کے لباس کی وجہ سے جنسی جرائم میں اضافے سے متعلق بیان کی وضاحت دیتے ہوئے کہ "لبرل بریگیڈ” نے وزیراعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں وزیرمملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے پارلیمانی سیکرٹری ملیکہ بخاری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  ملکی تاریخ میں پہلی بار 5 خواتین وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ وزیراعظم پاکستان میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے پرعزم ہیں، کوئی دوسری جماعت خواتین کوسیاسی طور پر اتنی متحرک کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی لبرل کرپٹ عناصر کو پاکستانی معاشرے کی ترجمانی کا حق نہیں دیں گے،  ہمارے کلچر اور لباس پہننے کے انداز کو پوری دنیا میں پسند کیا جاتا ہے ، لوگ ہماری طرح لباس پہننے کی خواہش رکھتے ہیں، اسی ثقافت نے مجھے عزت دی ہے اور اسلام نے مجھے شائستگی کا درس دیا ہے، قرآن میں کی گئی باتوں کو مسخ کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔

اس موقع پر تحریک انصاف کی پارلیمانی سیکرٹری   برائے قانون ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے وزارت قانون کو پہلی ہدایت جو کی تھی وہ خواتین اور بچوں کے جنسی استحصال اور تشدد کے خاتمے سے متعلق تھی، خواتین اور بچوں کے تحفظ کو ترجیح دینے والے شخص کی ٹیم کا حصہ ہونے پر فخر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریپ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، یہ کسی بچی، خاتون یا ایک فرد نہیں بلکہ ریاست کے خلاف جرم ہے، ہم نے اس معاملے کیلئے خصوصی عدالتیں،  اینٹی ریپ کرائسز سیل، جے آئی ٹیز تشکیل دیں، ہم نے تجویز دی کہ ریپ کیسز کی سماعت کو بند کمروں اور ان کیمرا سماعتوں میں سنا جائے، ہم نے سیکشن13 کے تحت ٹوفنگر ٹیسٹنگ کے طریقہ کار کو ختم کیا۔

ملیکہ بخاری نے کہا وزیراعظم عمران خان وہ پہلے سربراہ ہیں جنہوں نے خواتین کو وراثتی حقوق دلانے کیلئے اقدامات کیے، اس سے قبل کسی وزیراعظم  نے اس معاملے پر بات تک نہیں کی ۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے امریکی ٹی وی چینل کو ایک انٹرویو کے دوران عورتوں کے لباس کی وجہ سے جنسی زیادتی کے کیسز سے متعلق سوال پر  جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ  اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس معاشرے کی بات کررہے ہیں۔

عمران خان نے کہا تھا کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ڈسکوز یا کلب نہیں ہیں، یہاں اگر آپ لوگوں کو اکسائیں گے ان نوجوانوں کے پاس کوئی جگہ نہیں ہوگی  ایسی صورتحال میں ایسے ہی تنائج مرتب ہوں گے، مرد روبوٹ نہیں ہے عورت کم کپڑے پہنے گی تو  لازمی طور پر اس کا اثر ہوگا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>