علامہ مظہرنجفی کی بچوں سے بدفعلی کی ویڈیوز وائرل ہونے پر پولیس کا ایکشن

چنیوٹ کے علاقے تھانہ محمد والا میں عالم دین کی بچے سے بدفعلی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

مدعی نے مقدمے میں کہا کہ اس کا 14 سالہ بچہ جامعہ امام العصر میں زیر تعلیم تھا جسے وہاں علامہ مظہر عباس نجفی نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق علامہ مظہر نجفی نے ایک معصوم بچے کو بد فعلی کا نشانہ بنایا جسکی خفیہ وڈیو وائرل ہو گئی جس کے بعد پولیس نے ملزم کے خلاف دوبارہ کاروائی کی ۔

چنیوٹ پولیس کے مطابق یہ واقعہ مارچ 2021 میں پیش آیا جس کا مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھا ۔ مقدمے میں جرم دفعہ 377 شامل کی گئی جس کے مطابق جو شخص کسی سے بدفعلی کرے، اسے قید کی سزا دی جائے گی۔لیکن ملزم کی ویڈیوز اب وائرل ہوئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملزم اپنے حلقہ میں انتہائی عزت احترام سے دیکھا جاتا تھا اور انہیں اپنے مکتبہ فکر میں خاص اہمیت دی جاتی رہے۔ ملزم چنیوٹ میں جامعہ امام العصر کا پرنسپل تھا جس نے اعلی تعلیم نجف سے حاصل کی ۔

بتایا جارہا ہے کہ بچے کے باپ کی ایف آئی کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا تھااور مدرسے میں ہی کئی لوگوں نے ملزم کو تشدد کا نشانہ بناکر اور کھری کھری سناکر اپنا غصہ اتارا ۔

مظلوم بچے کے باپ کے مطابق اگرچہ ملزم کو موقع پہ رنگے ہاتھوں پکڑا تھا لیکن اس نے اپنے فرقہ کو بدنامی سے بچانے کے لئے خاموشی اختیار کر لی۔ لیکن وڈیو وائرل ہونے کے بعد اس نے پولیس کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔

دعویٰ کیا جارہا ہے کہ بچے کا والد کو کچھ علاقائی شخصیات کے بعد مقدمہ واپس لینے پر مجبور کیا گیا تھا۔

  • ایک چیز نوٹ کرنے والی ہے کہ اس کے اپنے مسلک کے لوگوں نے اسکو تشدد کا نشانہ بنا کر پولیس کے حوالے کیا اور باقی کام اب پولیس کرے گی
    ایک ہم ہیں کہگٹر مائینڈ ملاوں کو ایکسپوز کرنے کے جرم میں کیا کیا کہلوا رہے ہیں؟؟

    • جناب آپ کی بات سے متفق ہو ہم اپنے فرقوں، قوم، سیاسی پارٹیوں کی عزت کے لیے اندھے گونگے بہرے بن جاتے ہیں جس کی وجہ ہر قسم کا گنہگار بچ جاتے ہے جسے اسکو اور اس جیسے دوسرے لوگوں کو شیے مل جاتی ہے یہ ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم گنہگاروں کو سپورٹ کرنے کہ بجاے انکو سزا دلوانے میں مڈ کرے تاکے برائی کا خاتما ہو سکے اور دوسری بات شاید آپ نے رپوٹ بھی پوری نہیں پڑی آخیر کے دو پیرا بھی
      اسی رپورٹ کا حصہ ہے

  • The government needs to take the following action immediately.
    (1) Teacher/molvies should not be allowed to live in children’s hostels. (2) Each madrassah must have a complaint box that is locked and the key is with the government officials (3) Mobile phones must be allowed in madrassahs and their hostels.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >