شاہد خاقان عباسی کا بھی اسامہ بن لادن کو دہشت گرد کہنے سے گریز؟ واضح مؤقف نہ اپنایا

 

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شرکت کے دوران اسامہ بن لادن سے متعلق واضح مؤقف اپنانے سے انکار کر دیا۔

پروگرام کی میزبان فریحہ ادریس نے جب زور دےکر پوچھا کہ کیا وہ بھی اسامہ بن لادن کو شہید سمجھتے ہیں؟ اس پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس کا فیصلہ پارلیمان کو کرنا چاہیے۔ اس پر پارلیمنٹ میں بات ہونی چاہیے اور وہیں فیصلہ کیا جانا چاہیے کہ اسامہ بن لادن شہید ہے یا نہیں۔

میزبان نے کہا کہ وہ بھی سابق وزیراعظم ہیں ان کی اپنی بھی تو کوئی رائے ہو گی انہیں یہاں ذاتی رائے میں بتا دینا چاہیے کہ وہ اس معاملے پر کیا رائے رکھتے ہیں تو شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وہ پارلیمان کا حصہ ہیں اور اس سے متعلق رائے زنی وہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ایک غیر ملکی میڈیا چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اسامہ بن لادن کو دہشت گرد کہنے کے معاملے پر بات کو گول کردیا۔ میزبان نے ان سے سوال کیا کہ وہ وزیراعظم کے ماضی کے اس بیان کو کس نظر سے دیکھتے ہیں جس میں انہوں نے بن لادن کو شہید کہا تھا۔

اس پر وزیر خارجہ نے کہا کہ اس بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور میڈیا کے ایک مخصوص ونگ نے اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ مگر جب میزبان نے ان سے پوچھا کہ وہ اس متعلق کیا رائے رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ اس سوال کا کوئی بھی جواب نہ دینا پسند کریں گے۔

ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین میں شامل لبرل بریگیڈ نے ان پر خوب تنقید کی اور وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بھی کہا کہ معصوم لوگوں کے قتل عام میں ملوث شخص کو شہید نہیں کہا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیاں دہشتگردی ہیں اور کرنے والےکو دہشت گردی ہی کہا جائے گا۔

اسی حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتکو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے القاعدہ کا قلع قمع کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس سے دنیا انکار نہیں کر سکتی۔ القاعدہ کی کمر توڑنے میں جتنا پاکستان کا کردار ہے شاید ہی کسی کا ہو۔ ہم اس کا دوبارہ ڈھنڈورا پیٹنا نہیں چاہتے۔ ہمارا مؤقف سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف تھے ہیں اور رہیں گے ہم نے اس کی جانی اور مالی دونوں صورتوں میں قیمت ادا کی ہے۔ کوئی فرد یا ادارہ اگر دہشتگردی کو ہوا دینا چاہتا ہے تو ہم نہ اس کے ساتھ کل تھے نہ آج ہیں نہ کل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم "پارٹنرز اِن پیس” ہیں اور دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ اس میں لوگوں کو نجانے کیوں ابہام ہے کہ ہماری پالیسی کیا ہے۔

  • اس کا مسلہ اور ہے
    اس کی چوری معاف کرو یہ اپنے باپ کو بھی
    گالیاں دے گا
    اگر نہ دے تو جو مرضی سزا مجھے دینا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >