لاہور، جوہر ٹاؤن دھماکے کا مقدمہ درج، حاملہ خاتون کی حالت تشویشناک

لاہور، جوہر ٹاؤن میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے گھرکے قریب ہوئے دھماکے کے نتیجے میں اموات کی تعداد 4 ہو گئی جبکہ 23 افراد زخمی ہو گئے ہیں، زخمیوں میں خواتین سمیت دو بچے بھی شامل ہیں۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ آواز دور تک سنی گئی ، دھماکے سے ارد گرد کی عمارتوں کےشیشے ٹوٹ گئے۔

دھماکے کا مقدمہ ایس ایچ او تھانہ سٹی عابد بیگ کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر میں 3 نامعلوم افراد کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دھماکے سے متعلق میڈیا سے گفتگو کرتے آئی جی پنجاب انعام میمن نے تصدیق کی کہ یہ گیس پائپ لائن پھٹنے سے نہیں بلکہ باقاعدہ بم دھماکا کیا گیا ہے جو کہ کار میں نصب تھا۔

انہوں نے کہا کہ کار رکاوٹوں کی وجہ سے اپنے مقررہ ہدف تک نہیں پہنچ سکی اور اس دھماکے کا نشانہ پولیس اہلکار بھی بنے۔ دھماکے کی جگہ سے بال بیئرنگ اور لوہے کے ٹکڑے ملے ہیں۔ آئی پنجاب نے بتایا کہ سی ٹی ڈی واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہا ہے۔

دوسری جانب سی ٹی ڈی نے مختلف شہروں میں چھاپے مار کر کئی مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا۔ دھماکے کے مقام کے قریبی علاقے کی جیو فینسنگ کر لی گئی ہے۔ سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے شواہد محفوظ کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ اس دھماکے کے دوران بی اوآر سوسائٹی کے سی بلاک میں ایک حاملہ خاتون بھی متاثر ہوئی تھی، اسپتال ذرائع کے مطابق خاتون کی حالت تشویشناک ہے۔ جناح اسپتال کے ایم ایس کے مطابق دھماکے میں متاثر ہونے والی خاتون اور پولیس اہلکار دونوں کی حالت خطرے میں ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>