قصور میں 50فیصد پولیس عملہ منشیات کا عادی نکلا،ٹیسٹ میں تصدیق

پنجاب کے ضلع قصور میں پولیس اہلکار قصور وار نکلے،پچاس فیصد اہلکار منشیات کا استعمال کرتے ہیں،ٹیسٹ میں منشیات کے استعمال کی تصدیق ہوگئی،محکمہ پولیس میں اصلاحات لانے کے لئے پنجاب پولیس صوبے بھر میں اپنے تمام عملے کا ڈرگ ٹیسٹ کروا رہی ہے، جس میں پچاس فیصد عملہ منشیات کا عادی نکلا ہے۔

 مہم کے پہلے روز ضلع قصور میں 48 عہدیداروں کے منشیات کے ٹیسٹ کیے گئے،ان میں سے 24 اہلکار منشیات کے استعمال کرتے پائے گئے،پہلے مرحلے میں آئی جی پنجاب انعام غنی کی ہدایت پر اے ایس آئی رینک کے پولیس اہلکاروں کا ٹیسٹ کروایا گیا تھا۔

آئی جی پنجاب نے متعلقہ محکمہ کو سخت اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کانسٹیبل سے لے کر پولیس سروس آف پاکستان  افسران تک کے اہلکاروں کے نمونے لئے جائیں گے،ضلعی پولیس نے بتایا کہ اہلکاروں کا انتخاب داخلی انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

نمونے جانچ کے لئے نجی لیب میں بھیجے گئے تھے،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمران کشور کے مطابق ،نجی لیبز سرکاری اسپتالوں کے مقابلے میں زیادہ قابل اعتماد ہیں اسلئے ٹیسٹ کیلئے نجی لیبز کا انتخاب کیا گیا ہے۔

قصور پولیس کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اہلکاروں کی اکثریت مفت منشیات  ملنے پر نشے کا عادی بن جاتی ہے، اسلئے جرائم پیشہ افراد سے برآمدہ شدہ منشیات کی مانٹیرنگ کیلئے سخت اقدامات ہونے چاہئیں۔

دوسری جانب ڈی پی او نے وضاحت دی کہ منشیات کا ٹیسٹ مثبت ہونے سے کسی کو نشے کا عادی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ نیند کی گولی لینے والے افراد کا منشیات ٹیسٹ بھی مثبت ہی سامنے آتا ہے، اسلئے لیب کی تحقیقات کی تصدیق ماہرین کریں گے۔

  • Get the DPO tested as well. I am sure he is also a drug addict from the way he is giving lame excuses about the test being positive. The test tells you exactly what drug it is so there is no confusion between sleeping pills and illegal drugs.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >