مجھے نہیں پتہ کہ میرے ذاتی بنک اکاؤنٹس میں کون پیسے جمع کرواتا رہا،حمزہ شہباز


مجھے نہیں پتہ کہ میرے ذاتی بنک اکاؤنٹس میں کون پیسے جمع کرواتا رہا، حمزہ شہباز کا دعویٰ

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے صاحبزادے اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں اکاؤنٹس میں اربوں روپوں کی ٹرانزیکشنز کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں پتہ میرے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں پیسے کون جمع کرواتارہا۔

حمزہ شہباز مبینہ25 ارب شوگراسکینڈل میں ایف آئی اے کے روبرو پیش ہوئے ، جہاں ایف آئی اے کی مشترکہ ٹیم کی جانب سے ان سے سخت سوالات کئے گئے جن کے حمزہ شہباز تسلی بخش جوابات نہ دے پائے اور زیادہ تر سوالوں پر لاعلمی کا اظہار کرتے رہے ۔

حمزہ شہباز شریف سے ایف آئی اے کی پانچ رکنی ٹیم نے تحقیقات کی۔ ان سے رمضان اور العریبیہ شوگر ملز سے متعلق سوالات کیے گئے اور وہ 40 منٹ تک ایف آئی اے دفتر میں رہے۔

تحقیقات کے دوران حمزہ شہباز نے اپنے بنک اکاؤنٹس میں اربوں روپوں کی ٹرانزیکشنز پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2008سے2018تک ممبر قومی اسمبلی رہا۔ میں منی لانڈرنگ قانون 2010 سے لاعلم ہوں۔

حمزہ شہباز نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ انسدادکرپشن ایکٹ 1947سےبھی واقف نہیں ہیں۔

حمزہ شہباز نے دعویٰ کیا کہ مجھےنہیں معلوم کہ میرےذاتی بینک اکاؤنٹس میں پیسےکون جمع کرواتارہا، سیاست میں مصروف ہونےکی وجہ سے مجھے ان ٹرانزیکشنز کا پتہ نہیں چلا۔

اپنے بھائی سلمان شہباز کے بیرون ملک فرار ہونے پر بھی حمزہ شہباز نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ سلمان شہباز، رمضان شوگرملزملازمین بیرون ملک کیوں فرارہوئے، اسکا مجھےعلم نہیں۔

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ وہ رمضان شوگر ملز کا چیف ایگزیکٹو رہے ہیں ، ، چپڑاسی ،کلرکوں کےاکاؤنٹس میں 25 ارب کس نےجمع کروایا ، یہ ذمہ داری میری نہیں ، ان 25ارب میں اگرکوئی ناجائز رقوم یاآمدن آئی تواس کی ذمہ داری میری نہیں۔

واضح رہے ایف آئی اے کی جانب سے حمزہ شہباز کو رمضان شوگر مل اور العریبیہ شوگر مل کیس میں طلب کیا گیا تھا اور دونوں ملز کا ریکارڈ بھی لانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں گزشتہ روز ہی شہبازشریف کو بھی طلب کیا گیا تھا اور ذرائع کے مطابق وہ بھی تسلی بخش جوابات نہ دے پائے

شہباز شریف، حمزہ و سلمان شہباز کے خلاف 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی انکوائری میں ذاتی ملازمین کے نام شامل ہیں، شہباز شریف اور ان کے بچوں نے چپڑاسی، کلرک، کیشیئرز اور گودام مینجرز کے نام پر منی لانڈرنگ کی، منی لانڈرنگ میں شوگر ملز ہی کے 20 ملازمین کے بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔

چپڑاسی مقصود کے نام پر 2 ارب 70 کروڑ ، حاجی نعیم کے نام پر 2 ارب 80 کروڑ اور ڈرائیور کے نام پر اڑھائی ارب روپے، چپڑاسی اسلم کے نام پر ایک ارب 75 کروڑ، کلرکس اظہر اور غلام شبیر خضر حیات کے ناموں پر ساڑھے چار ارب کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ اس کے علاوہ قیصر عباس، اکبر، اقرار، انور، یاسین، غضنفر، توقیر، ظفر اقبال، کاشف مجید اور مسرور انور کے نام بھی استعمال کیے گئے۔

  • تم خبیثوں کے اکاونٹ میں جن بھوت پیسے جمع کروا جاتے ہیں ہمارے اکاؤنٹس تو جن لوگوں نے ادھار دینا ہے وہ بھی دیلہ بھی جمع نہں کرواتے۔

  • جاہل میٹرک فیل ککڑی چور
    اکاؤنٹ میں کوئی پیسے ڈالے اور اپ رکھ لیں تو سیدھی سیدھی
    ٣٧٨ لگتی ہے-
    اگر اداروں میں ذرا سی تڑ ہوتی تو وہیں اسے اندر کر لیتے
    لیکن جیسی قوم ہوتی ہے چوروں کو ١٨٠ سیٹیں دینے والی
    ویسے ہی ادارے ہوتے ہیں
    😂😂😂😂

    • یہ عدالتیں امیروں کے گھر کی لونڈیاں ہیں .یہ بے غیرت اور حرام خور جج مافیا کا حصّہ ہیں اور پاکستان کی بدنامی کا سبب ہیں . یہ جج پیسوں کے لئے اپنی ماں بھی بیچ دیں گے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >