ساجد سدپارہ والد کی موت کی وجوہات جاننے اور آج سے پھر کےٹو سر کرنے نکلیں گے

عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے والد کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے آج کےٹو کی مہم جوئی پر روانہ ہوں گے۔ انہوں نے یہ اعلان وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

کوہ پیما محمد علی سدپارہ رواں برس 5فروری کو دیگر دو غیر ملکی کوہ پیماؤں جان سنوری اور ہوان پیبلو موہر کے ہمراہ کے ٹو سر کرنے کی مہم کے دوران لاپتہ ہوگئے تھے۔ علی سدپارہ اور ان کے دو دیگر ساتھیوں کی تلاش کے لیے طویل آپریشن کیا گیا لیکن ان کی لاشیں بھی نہیں مل سکیں جس کے بعد 18 فروری کو گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت نے ساجد علی سد پارہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی تھی۔

ساجدسدپارہ نے اس حوالے سے کہا کہ بیٹا ہونے کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے کہ اپنے والد کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے خطرہ اٹھاؤں۔ انہوں نے کہا کہ آج اسلام آباد سے اسکردو جائیں گے جہاں سے کے ٹو کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔

ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے والد تیز ہواؤں کا شکار ہوئے اور یا پھر وہ کسی برفانی تودے کی زد میں آئے، انہوں ںے کہا کہ وہ اس حوالے سے اپنی والدہ اور بھائیوں کو بھی اعتماد میں لے چکے ہیں۔ وہ اپنے والد کے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے ان کی میت اور ان کے زیر استعمال اشیا کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

ساجد سدپارہ نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کے والد اب فوت ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ ان کی لاش کا ملنا بھی بہت مشکل ہے لیکن اگر وہ نہ بھی ملی اور میرا سمٹ مکمل ہوا تو اپنے والد کی خواہش کے مطابق ان کا جھنڈا ضرور کے ٹو پر لہراؤں گا۔ وہ اس سفر کے دوران اپنے والد محمد علی سدپارہ، جان سنوری اور اپنی زندگی پر ڈاکو منٹری بھی شوٹ کریں گے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >