توہین رسالت کے جھوٹے الزام پرمسلمان بینک منیجرکوقتل کرنےوالا ملزم اپنے انجام کوپہنچ گیا

توہین رسالت کے جھوٹے الزام پرمسلمان بینک منیجرکوقتل کرنےوالا ملزم اپنے انجام کوپہنچ گیا۔ صوبہ پنجاب کے ضلع خوشاب کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بینک سیکیورٹی گارڈ کو دو مرتبہ سزائے موت دینے کا حکم دے دیا۔ مقتول بینک منیجرکے اہل خانہ فیصلےپرتومطمئن ہیں تاہم توہین رسالت کے جھوٹے الزام پرسزا نہ ملنےپرمایوسی کا اظہارکیا ہے۔ اس انتہائی حساس معاملےمیں پولیس، عدالت، علمائے کرام سب نے بہت اچھا کردارادا کیا،، جس کےباعث مجرم اپنے منطقی انجام تک پہنچا لیکن کچھ سوالات کے جوابات باقی ہیں۔ آئیے آپ کواس واقعے کی تفصیلات بتاتےہیں

قتل کا واقعہ کب اورکیسے ہوا؟

گزشتہ سال نومبرمیں پنجاب کےضلع خوشاب کےعلاقے قائد آباد میں سیکورٹی گارڈ احمد نوازنے اپنے ہی بینک مینیجرمحمد عمران حنیف کواس وقت قتل کرڈالا جب وہ صبح بینک میں داخل ہورہے تھے۔ ملزم سیکورٹی گارڈ نے توہین رسالت کوقتل کرنے کی وجہ قراردیا۔ پولیس موقع پرپہنچی توابتدائی طورپراسے ملزم کوگرفتارکرنے میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس ملزم کوتھانے منتقل کرنے لگی تومقامی لوگوں کے ہجوم نے اس کوگھیرلیا۔ پولیس دلیری کا مظاہرہ کرتےہوئے ملزم کوتھانے منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئی تاہم ہجوم کےبہت سے افراد تھانے کی چھت تک پہنچ گئےتھے، جنہیں بعد میں پرامن طورپرمنتشرکردیا گیا تھا۔

بینک مینیجرکےقتل کی وجہ توہین رسالت یا پھرذاتی عناد؟

مقتول بینک مینیجرکےاہل خانہ نے توہین رسالت کے الزامات کومسترد کرتے ہوئے اسے ذاتی عناد قراردیا تھا۔ مقتول کے چھوٹے بھائی نے مقدمے میں کہا تھا کہ وہ اکثراپنے بڑے بھائی کوگاڑی پربینک چھوڑنے کے لیے جاتا تھا، اس لیے ملزم احمد نوازکوپہلے سے جانتا تھا،، قاتل سیکورٹی گارڈ کا ڈیوٹی پرتاخیرسے پہنچنا معمول تھا، جس پرمقتول بینک مینیجراس کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے تھے،، اسی وجہ عناد کےباعث سیکورٹی گارڈ نے فائرنگ کرکے اس کےبڑے بھائی کوقتل کردیا۔ پولیس تحقیقات میں بھی قتل کی وجہ ذاتی عناد ہی قرارپائی۔

مقتول بینک مینجرکے اہل خانہ اوراہل محلہ کا توہین رسالت پرردعمل

مقتول کےاہل خانہ کا کہنا ہے کہ ہمارے گھرمیں توکئی برسوں سے بچے والدہ سے فی سبیل اللہ قران پاک پڑھنے آتے ہیں۔ والدہ بچوں کو قرآن پاک پڑھا رہی ہوتی ہیں تو ساتھ میں اپنے بیٹے کو یاد کرتے روتی رہتی ہیں۔ اہل محلہ نے بھی تصدیق کی کہ مقتول بینک مینیجراپنے گھرمیں اکثراوقات مذہبی محافل کا انعقاد کرتا تھا،، اس گھرانے پرتوہین رسالت کےبھونڈے الزام کسی صورت تسلیم نہیں کیاجاسکتا،، اہل خانہ اوراہل محلہ نے مقتول بینک مینیجرکوعاشق رسول قراردیتےہوئے توہین رسالت کا الزام یکسرمسترد کردیا

واقعےکی تحقیقات، پولیس، انتظامیہ اورعلمائے کرام کا کردار

توہین رسالت پرقتل انتہائی حساس معاملہ تھا،، اس حوالے سے پولیس، انتظامیہ اورعلمائے کرام نے بہت ہی قابل تعریف کردارادا کیا۔ ترجمان خوشاب پولیس کا کہنا تھا کہ قتل کا یہ واقعہ پولیس کے لیے ایک چیلنج تھا جس کی تفتیش جدید طرز پر کرنے کے ساتھ یہ کوشش بھی کی گئی کہ اس مقدمے میں انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوسکیں۔ پولیس، انتظامیہ اورعلما کی جانب سے ایک پچاس رکنی کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی نے اپنی پوری تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں مجرم سیکورٹی گارڈ بینک مینیجرپرتوہین رسالت کا کوئی الزام ثابت نہیں کرسکا۔

واقعے کے بعد نہ صرف یہ کہ پولیس نے انصاف کے تقاضے پورے کیے بلکہ عدالت میں بھی اس کی سماعت تیزی سے ہوئی۔ چند ماہ کی سماعتوں کےبعد خوشاب کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بینک مینیجرکوقتل کرنےوالے سیکورٹی گارڈ کودومرتبہ سزائے موت سنادی۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پرملزم کوساڑھے11لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا،، جرمانے کی عدم ادائیگی پرملزم کو مزید دو سال جیل میں گزارنا ہوں گے۔

توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے کی سزا کا تعین کب ہوگا؟

مقتول کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے انتہائی مشکل حالات میں یہ مقدمہ لڑا۔ ہروقت یہ خوف سوار رہتا تھا کہ مقتول بھائی پرلگائے گئے توہین رسالت کے نتیجے میں ہم لوگوں کو کوئی نقصاں نہ پہنچ جائے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلےپروہ کچھ مطمئن ہیں مگرساتھ مایوسی بھی ہے کہ مجرم کو سزا تو قتل کی ملی ہے جبکہ مقتول پر توہین رسالت کا جو جھوٹا الزام عائد کیا تھا اس کی تو کوئی سزا نہیں ملی۔ توہین رسالت کا الزام لگنے سے ہم کس طرح مسائل کا شکار ہوئے اس کا تو کوئی ازالہ نہیں کیا گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ حکومت اورعدالتوں کواس پرکچھ سوچنا اورعملی طورپرکام کرنا چاہیے۔

اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی بھی اٹھے اور توہین رسالت کا الزام عائد کر دے۔ الزام ثابت نہ ہونے پرالزام عائد کرنےوالے کے خلاف بھی توہین رسالت کی دفعات کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔

اس حقیقت سے بھی انکارنہیں کیا جاسکتا کہ متعدد توہین رسالت کے مقدمات ملک کی مختلف عدالتوں میں زیرسماعت ہیں جن پرٹرائل سست روی کا شکارہے۔ سپریم کورٹ میں انورکینتھ نامی ایک توہینِ مذہب کے ملزم کا مقدمہ بھی طویل عرصے سے زیر التواء ہے۔

سابق چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے آسیہ بی بی کی رہائی کے بعد ایک مرتبہ ملزم انورکینتھ کا مقدمہ سماعت کیلئے مقررکیا لیکن پھرنامعلوم وجوہات کی بنا پرکیس اسی روزبغیرسماعت کے ملتوی کردیا گیا جو آج تک دوبارہ سماعت کیلئے مقررنہیں ہوا۔ انورکینتھ نے جیل سے بیٹھ کراسرائیلی وزیراعظم کوخط لکھا تھا جس میں توہینِ مذہب کا ارتکاب کیا گیا تھا۔

  • قاتل کو تو ناحق کئے گئے قتل کی سزا مل گئی
    مگر
    ان لوگوں کی بنڈ پر چھتر کیوں نہی وجے جو اسے ہیرو بنا کر کندھوں پر بیٹھا کر گلی گلی سڑک سڑک گھومتے رہے؟؟


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >