عثمان مرزا کس قسم کی ویڈیوز بناتا رہا؟ کیا اس بار قانون کو چکما دے پائے گا؟

آئین اور قانون میں تمام پاکستانی شہری برابر ہیں ، کوئی قانون سے بالا تر نہیں ۔ مگر جس ملک میں عثمان مرزا جیسے شیطان قانون کو محض کاغذ کا ٹکڑا سمجھ کر اس کی بے حرمتی کرتے ہوں وہاں شہریوں کے برابری کے حقوق کی بات تقریروں اور تجزیوں کی حد تک رہ جاتی ہے۔ ایسے میں برابری کا حق دینے یا برابری کے قانون پر عمل درآمد کی بات کتابی تحریر سے زیادہ اہم نہیں ہوتی۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ کی نقاب پہنے عثمان مرزا جیسے کچھ لوگ قانون سے بالا تر ہیں تو کچھ قانون کی چھڑی کے نیچے۔ قانون کسی کے گھر کی لونڈی تو کسی کے سر پر لٹکتی تلوار۔ قانون کے نفاذ کی بات کریں تو عوام اور خواص کے فرق کو اکبر الہٰ آبادی کے ایک شعر میں بھی سمجھایا جا سکتا ہے۔

؎ ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے تو چرچا نہیں ہوتا

اس درندے عثمان مرزا جیسے جو خود کو قانون سے بالا تر اور اس کی پہنچ سے دور سمجھتے ہیں انہیں ” اہم شخصیت” یا وی آئی پی جبکہ ان سے اوپر والوں یعنی ان لوگوں کو جن کی آشیرباد حاصل ہوتی ہے ان کو ” اہم ترین شخصیت ” یا وی وی آئی پی کا لقب دیا جاتا ہے۔ ان افراد کے فرعونی انداز کے سامنے کھڑے ہونے سے بڑے بڑے گھبراتے ہیں۔

منگل کی شام پاکستانی سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں عثمان مرزا نامی ایک بدمعاش جو کہ ٹک ٹاک پر اپنے شیطانی کاموں کی وجہ سے کافی بدنامی نما شہرت رکھتا ہے اس نے ایک نوجوان لڑکے اور لڑکی پر تشدد کیا انہیں زبردستی برہنہ کرنے کی کوشش کرتا رہا اس نے اسلحے اور اپنے چیلوں چپاٹوں کے دم پر انہیں ڈرایا دھمکایا اور بعد ازاں لڑکی کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

اس شخص کی یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا جس کے بعد پولیس نے مجبوراً ایکشن لیتے ہوئے اس درندے اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس گرفتاری کو پولیس کی مجبوری کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ ویڈیو لگ بھگ 4 سے 5 ماہ پرانی ہے جس میں سب لوگوں کو گرم کپڑے پہنے دیکھا جا سکتا ہے مگر پولیس اب تک سوتی رہی اور کسی کو اس واقعہ کی خبر نہ ہوئی اب جب سوشل میڈیا پر اس سے متعلق شور مچا تو پولیس نے بھی ایکشن لیا اور ملزموں کو گرفتار کر لیا۔

اس درندے اور ملزم عثمان مرزا اور اس کے ساتھیوں کا ایک مکمل بیک گراؤنڈ موجود ہے یہ لوگ اسی طرح قانون کی خلاف ورزیاں کرتے اور انہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے نوجوان نسل کی خرابی کا باعث بنتے رہتے ہیں۔ اس کی بیشر ٹک ٹاک ویڈیوز میں اسے بدمعاشی کرتے اور دھونس جماتے اسلحے کی نمائش کرتے دیکھا جا سکتا ہے مگر پولیس کا اس کے خلاف ایکشن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

عثمان مرزا اور اس کے ساتھی ریکارڈ یافتہ مجرم ہیں جن پر اس سے قبل بھی مقدمات درج ہو چکے ہیں جن میں انہیں کچھ ہی دنوں بعد ضمانت مل گئی تھی اور یہ اس کے بعد پھر اسی طرح سے دندناتے پھرتے ہیں۔ عثمان مرزا کے ٹک ٹاک پر اس کی ویڈیو موجود ہے جس میں یہ اپنے فالورز سے کہتا ہے کہ اس کے خلاف کچھ کمزور لوگوں نے مقدمہ درج کرایا ہے یہ لوگ اس کے مقابلے کی سکت نہیں رکھتے اس لیے انہوں نے قانون کا سہارا لیا۔

یہی نہیں اس کے علاوہ عثمان مرزا پُراطمینان ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ 15 سے 20 روز میں ضمانت کراکے واپس آ جائے گا۔ اس کی جانب سے یہ دعویٰ مئی کے مہینے میں کیا گیا اور اب اسے باہر آزاد گھومتے ہوئے کو گرفتار کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ یا تو یہ گرفتار ہی نہیں ہوا تھا یا اگر گرفتار ہوا بھی تو واقعی کچھ روز میں رہا ہو کر باہر آ گیا۔

یہی نہیں عثمان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اپنی ویڈیوز میں سرعام شراب نوشی کرتا ہے جس پر پاکستان کے قانون کے مطابق سزا اور الگ سے مقدمہ درج کیا جانا چاہیے مگر فی الحال شاید پولیس کا اس جانب دھیان نہیں گیا۔ یا انہوں نے اسے ضروری نہیں سمجھا۔

عثمان مرزا اور اس کے 3 دیگر ساتھیوں کے خلاف اب ای الیون 2 میں پیش آنے والے واقعہ سے متعلق مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں خاتون کو بزور اسلحہ برہنہ کرنے دفعہ 354A، جنسی ہراساں کرنے کی دفعہ 509 اور اجتماعی جرم کے ارتکاب کی دفعہ 34 عائد کی گئی ہے، دفعہ 354 اے کی سزا موت یا عمر قید ہے۔ اگر پولیس نے ٹھوس ثبوت عدالت میں پیش کیے تو ٹھیک ٹھاک سزا ہوسکتی ہے۔

مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پولیس اب کی بار عدالت کو ٹھوس ثبوت پیش کر پائے گی کیا عدالت ان ثبوتوں سے مطمئن ہو کر اس مجرم کو سزا دے گی یا پاکستان کے دیگر بڑے بڑے مجرموں کی طرح عنقریب عثمان مرزا بھی طبی بنیادوں پر رہا ہو کر علاج کی غرض سے یا ویسے ہی قانون کو چکما دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >