افغان حکومت کا طالبان کے خلاف اسلحہ دینے کی پیشکش، سربراہ حزب اسلامی گلبدین حکمت یار کا انکار

افغان حکومت نے سربراہ حزب اسلامی گلبدین حکمت یار کو طالبان کے خلاف اسلحہ دینے کی پیشکش کی جس پر سابق افغان وزیراعظم نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اسلحہ لینے اور طالبان سے جنگ کرنے سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سربراہ حزب اسلامی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا افغانستان سے متعلق بیان قابل تحسین ہے۔

گلبدین حکمت یار نے وزیراعظم عمران خان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے تسلیم کیا ہے کہ ماضی میں غلطیاں کیں اب کوئی فیورٹ نہیں۔

تاہم انھوں نے عمران خان کے بیان میں حزب اسلامی کے ذکر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان درست نہیں تھا، کیونکہ سوویت یونین کے خلاف جنگ کے بعد پاکستان نے ہماری مدد نہیں کی۔

افغان طالبان کی جانب سے ملک کے متعدد اضلاع پر قبضہ کے بعد ملکی حالات بگڑ گئے ہیں جس پر گلبدین حکمت یار کا کہنا تھا کہ پچھلی عید پر اشرف غنی کو استعفیٰ اور عبوری حکومت کے قیام پر قائل کرلیا تھا، افغان حکومت کے بعض عناصر نے اشرف غنی کو غلط مشورے دیئے۔

سابق افغان وزیراعظم نے طالبان کی جانب سے پیدا کی گئی صورتحال اور ان کی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان شہروں پر قبضہ کرلیں اور ملک میں جنگ بھی رہے تو بدبختی قائم رہے گی۔ اگر طالبان کی جانب سے پُرامن راستہ اختیار کیا گیا تو وا ان کا ساتھ دیں گے۔

انھوں نے اسلحہ کی پیشکش کے حوالے سے بتایا کہ ہمیں افغان حکومت نے طالبان کے خلاف اسلحہ دینے کی پیشکش کی لیکن ہم نے اسلحہ لینے اور طالبان سے جنگ کرنے سے انکار کردیا۔

سربراہ حزب اسلامی نے امن کے لیے فوری سیزفائر پر زور دیا اور کہا کہ عبوری حکومت اور انتخابات کے ذریعے انتقالِ اقتدار ہونا چاہیے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>