عثمان مرزا اور اسکے ساتھیوں کا تشدد : متاثرہ جوڑے نے ملزمان کو شناخت کر لیا

اسلام آباد کے علاقے ای الیون میں لڑکی لڑکے کو برہنہ کرکے تشدد کرنے سے متعلق کیس پر سماعت ہوئی ۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ وقار گوندل نے نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے اور انکی ویڈیو بنانے کے حوالہ سے کیس کی سماعت کی ۔ تھانہ گولڑہ کی پولیس نے سخت سیکیورٹی میں کیس کے مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت چار ملزمان کو عدالت کے سامنے پیش کیا دیگر ملزمان میں عطاالرحمان ، فرحان اور ادریس قیوم بٹ شامل تھے۔ پولیس کی جانب سے ملزمان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد عدالت کے روبرو پیش کیا گیا ۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل جاوید عطا اور ساجد چیمہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے جبکہ لڑکے اور لڑکی کے وکیل حسن جاوید بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے تفتیشی افسر سے پوچھا گیا کہ کتنے دن ہوگئے ہیں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ لئے؟ جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ادارس قیوم بٹ کا 10 دن اور باقی ملزمان کا 9 روزہ جسمانی ریمانڈ ہوا ہے۔

تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ جو رقم واقعہ کے وقت چھینی گئی تھی وہ ادارس قیوم بٹ کے گھر سے ملی ہے جبکہ ملزمان نے کہا ہے کہ 11لاکھ 25 ہز ار جو لئے ہیں وہ دینے کوتیار ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان میں سے پیسے کون لیتا تھا تفتیشی افسر نے بتایا کہ مرکزی ملزم عثمان مرزا پیسے لیتا تھا اور باقیوں میں تقسیم کرتے تھے
عدالت نے مرکز ی ملزم عثمان مرزا سے پوچھا کہ آپ نے پیسے منگوائے تھے؟

جس پر عثمان مرزا کا کہنا تھا کہ میں نے ایک روپیہ بھی نہیں لیا میں صاحب حیثیت ہوں لاکھوں کی پراپرٹی ہے میرا اپنا کاروبارہے مجھے کسی سے پیسے لینے کی ضرورت نہیں ہے ویڈیوبنانے کے حوالے سے عثمان مرزا کا کہنا تھا کہ ریحان نامی ملزم ویڈیو بنا رہا تھا وہ بھی گرفتار ہوچکا ہے۔

مرکزی مجرم عثمان مرزا نے عدالت میں بیان دیا کہ جس دن وقوعہ ہوا معافی تلافی ہو گئی تھی۔ لڑکا لڑکی کو ہم نے کہا آجاؤ، ہم معذرت کر لیتے ہیں ۔انہوں نے کہا ہم آپ کی جگہ پر آئے تھے ہماری غلطی تھی ، ہماری معافی تلافی ہو گئی تھی جس دن کا وقوعہ ہے اسی روز صلح ہوئی معافی مانگی معذرت کی اگلے روز پھر کہا کہ معذرت کرتے ہیں۔ آج تک ایک روپیہ بھتہ لیا نا ان سے کبھی رابطہ کیا الحمد للہ خوشحال ہوں بھتے کے پیسے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ تمام ملزمان کی شناخت پریڈ منتقل ہوچکی ہے اور مدعیوں نے شناخت کرلی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ملزمان کے وکیل کی جانب سے بھی دلائل دئیے گئے ۔ ملزمان کے وکیل کا کہنا تھا پولیس اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے جسمانی ریمانڈ حاصل کر رہی ہے۔ میڈیکل کا حکم نامہ تھا ہمیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

عدالت فیملی کو ملاقات کی اجازت دے۔ ملزم عثمان مرزا نے عدالت کو کہا کہ دس دن ہو گئے ہمیں کپڑے نہیں دئیے جا رہے، نہانے نہیں دیا گیا، ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس خود کہتی ہے برآمدگی کسی اور ملزم سے ہوئی ہے، ملزم فرحان اور عطاء الرحمان کی جانب سے استدعا کی گئی کہ ہمارے سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوا، ہمیں جیل بھیجا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ جوڑے کے وکیل نے بھی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تمام ملزمان تسلیم کر رہے ہیں وقوعہ کے وقت وہ موقع پر تھے ۔ پیسے ملزم عثمان ابرار کا ایک ملازم لیتا رہا ۔ میرٹ پر تفتیش کے لیے ضروری ہے مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ دفعات کا اضافہ ہوتا گیا تفتیش کی نیچر تبدیل ہوتی گئی، جس پر عدالت نے پولیس سے استفسار کیا کہ کیا پیر تک سب کچھ مکمل ہو جائیگا؟ جس پر سرکاری وکیل نے جواب دیا جی پیر تک سب کچھ مکمل ہو جائیگا۔

پولیس کی جانب سے ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو مزید تین روزکے لئے پولیس کے حوالے کردیا۔

دوسری جانب بدھ کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر محسن عزیز کی صدارت میں ہوا تھا ۔ جس میں لڑکی اور لڑکے کی وائرل ویڈیو کا معاملہ زیر غور آیا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز افضال کوثر نے اسلام آباد واقعہ پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کیس میں ٹرائل کی پروسیڈنگ ان کیمرہ ہوگی۔ کوشش کررہے ہیں کہ جلد از جلد اس معاملے کو حل کریں لیکن کچھ لیبارٹریز سے رپورٹس آنے میں دیر لگتی ہے۔

اسلام آباد پولیس حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ واقعہ نومبر 2020 کا ہے۔ جیسے ہی ویڈیو وائرل ہوئی اس کی ایف آئی درج کردی، ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ ویڈیو میں جو دفعات لگائی گئی ہیں ان میں ’برہنہ کرنا حبس بے جا میں رکھنا، تشدد کرنا اور دھمکیاں دینے کی دفعات شامل ہیں۔ اور خاتون کو برہنہ کرنے کی سزا موت ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ موبائل میں کوئی اور ویڈیو کسی حوالے سے نہیں ملی۔’متاثرہ لڑکی اور لڑکا منگیتر تھے۔ لڑکی نے ایم بی اے کیا ہوا ہے اور نوکری کے انٹرویو کے لیے لاہور سے اسلام آباد آئی تھی اور انہوں نے اپنے منگیتر سے رہائش کا بندوبست کرنے کے لیے کہا تھا۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’متاثرہ لڑکی کے منگیتر نے حافظ عطا جو ان کا جاننے والا تھا اُس سے کہہ کر رہائش کا بندوبست کیا۔ حافظ عطا نے اس کمرے کی چابی ان کو دے دی لیکن جب وہ چابی لے کر چلے گئے تو سب نے دھاوا بول دیا۔‘
اس بات پر چئیرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے استفسار کیا کہ ایسی ویڈیوز وائرل کیوں ہوتی ہیں؟ جس پر کمیٹی میں موجود ڈائریکٹر سائبر کرائمز جعفر نے بتایا کہ ’اس کیس میں چھبیس جگہوں سے ویڈیو وائرل ہوئی، سولہ جگہ سے ڈیلیٹ کروائی۔ مزید کے لیے پی ٹی اے کو خط لکھا ہے کہ ڈیلیٹ کریں۔‘

اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان نے متاثرین کو بلیک میل کرکے 11 لاکھ روپے لیے، ملزمان متاثرین کو جان سے مارنے کی دھمکی دیتے تھے،متاثرین کو سیکیورٹی دینے سے متعلق بات ہوئی،  لیکن وہ کسی صورت میں ہائی پروفائل نہیں آنا چاہتے،ہم انہیں زبردستی نہیں لاسکتے، اسے دھیان سے دیکھنا ہوگا، ہم نے ان سے کہا ہے کہ سادہ لباس بندے سیکیورٹی پر لگا دیتے ہیں، متاثرین اس پر بھی تیار نہیں ہیں۔

پولیس حکام نے کہا تھا کہ ہماری حراست میں 7 سے 8 افراد ہیں، ایک کی گرفتاری کیلئے ہماری ٹیم دوسرے صوبے میں ہے، مرکزی ملزم اور ویڈیو بنانے والے 2 افراد ہماری کسٹڈی میں ہیں،ہمیں ملزمان کا 4 دن کا جسمانی ریمانڈ ملا ہے، ابھی تک موبائل فون میں کسی اور متاثرین کی کوئی ویڈیو نہیں ملی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >