حیدرآباد:اغوا کے بعد تیرہ سالہ لڑکی کی زبردستی شادی کی کوشش پولیس نے ناکام بنا دی

حیدرآباد میں پولیس نے 13 سالہ لڑکی کی اغوا کے بعد زبردستی شادی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے لڑکی کو اغوا کاروں کے چنگل سے آزاد کروالیا ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق واقعہ حیدرآباد کے علاقے گوٹھ سنجھر ملاح میں پیش آیا جہاں تیرہ سالہ لڑکی کو تین ملزمان نے اسکول جاتے ہوئے اغوا کیا اور اسے جعفر آباد لے جاکر قید کردیا۔

ملزمان نے لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایا، اس کی زبردستی شادی کروانے کی کوشش کی، مگر عین نکاح کے موقع پر پولیس نے چھاپہ مارا اور ملزمان کو گرفتار کرکے لڑکی کو ان کے چنگل سے آزاد کرواکے اس کے گھر واپس پہنچایا جہاں لڑکی کے والدین نے پھولوں کی پتیاں برسا کر پولیس اہلکاروں اور بچی کا استقبال کیا۔

اے ایس پی سٹی علینہ راجپر نے اس حوالے سے خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزمان درحقیقت لڑکی کے پڑوسی ہی تھے، لڑکی کے اغوا کے بعد سے پڑوس میں رہنے والے غائب تھے جس پر پولیس کو ان پر شک ہوا، بعد ازاں ان کی موبائل لوکیشن کو ٹریس کرتے ہوئے پولیس ان کے پیچھے جعفر آباد پہنچ گئی جہاں بچی کا زبردستی نکاح پڑھانے کی کوشش کی جارہی تھی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>